Language: Urdu

  • پاکستان ایشین گیمز 2026 کے کرکٹ فائنل میں، بنگلہ دیش کو شکست

    پاکستان ایشین گیمز 2026 کے کرکٹ فائنل میں، بنگلہ دیش کو شکست

    پاکستان کی مینز کرکٹ ٹیم نے جمعرات کو جاپان کے کوروجی اسپورٹس پارک میں بنگلہ دیش کو چھ وکٹوں سے شکست دے کر ایشین گیمز 2026 کے کرکٹ فائنل میں جگہ بنا لی۔

    گیلے آؤٹ فیلڈ کی وجہ سے میچ دیر سے شروع ہوا اور ہر ٹیم کو تیرہ تیرہ اوورز کھیلنے کو ملے۔ بنگلہ دیش نے سات وکٹوں پر 111 رنز بنائے، جس میں توحید ہردوئے نے 25 گیندوں پر چار چھکوں کی مدد سے 42 رنز کی نمایاں اننگز کھیلی۔ پاکستان کی جانب سے بائیں ہاتھ کے اسپنر سفیان مقیم نے 26 رنز دے کر تین کھلاڑی آؤٹ کیے۔

    112 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کو پہلے ہی اوور میں کپتان صاحبزادہ فرحان کی وکٹ سے دھچکا لگا، تاہم حسن نواز اور عبدالصمد کے درمیان 59 رنز کی شراکت نے میچ کا رخ پلٹ دیا۔ عبدالصمد نے دسویں اوور میں 23 رنز بٹور کر جیت کی راہ ہموار کی اور 15 گیندوں پر 30 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے، جبکہ حسن نواز 22 گیندوں پر 27 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے اور گیارہویں اوور کی تیسری گیند پر چوکا لگا کر فتح مکمل کی۔

    یہ ٹورنامنٹ میں پاکستان کا پہلا میچ تھا کیونکہ ہانگ کانگ کے خلاف کوارٹر فائنل بارش کی نذر ہو گیا تھا۔ اس فتح کے ساتھ پاکستان کا کم از کم چاندی کا تمغہ یقینی ہو گیا ہے، جو پچھلے ایڈیشن کے چوتھے نمبر سے بہتر کارکردگی ہے۔

    گولڈ میڈل کے مقابلے میں پاکستان کا سامنا 3 اکتوبر کو بھارت سے ہوگا۔ یہ ایشین گیمز کی مینز کرکٹ میں دونوں روایتی حریفوں کا پہلا مقابلہ ہوگا، جبکہ سری لنکا اور بنگلہ دیش اسی روز کانسی کے تمغے کا میچ کھیلیں گی۔

  • پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی کارروائی کی ویڈیو کلپس جاری کیں

    پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی کارروائی کی ویڈیو کلپس جاری کیں

    پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کی گئی فضائی اور ڈرون کارروائی کی ویڈیو کلپس جاری کر دی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ کلپس اس کارروائی کی ہیں جس میں پاکستان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    اس سے قبل پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ اس نے افغانستان کے دو صوبوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔ وزارتِ اطلاعات کے مطابق ابتدائی رپورٹس میں 22 عسکریت پسندوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ملی، اور وزارت کا دعویٰ تھا کہ شہری نقصان سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ احتیاط برتی گئی۔

    دوسری جانب کابل کا کہنا ہے کہ پاکستانی فضائی حملوں میں نو افراد ہلاک ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ افغان حکام نے صوبۂ کنڑ اور ہلمند میں شہری ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔ ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

    صدر کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں طالبان انتظامیہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ دہشت گرد گروہوں کو ‘محفوظ پناہ گاہیں، تربیت اور لاجسٹک سہولتیں’ فراہم کرتے رہے تو اس کے نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کابل کی انتظامیہ کو ‘دہشت گردی کی سرپرست ماں’ قرار دیا۔

    پاکستان کا موقف ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے اندر حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور اس نے طالبان حکام سے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان گروہوں کے خلاف کارروائی کریں۔ کابل انتظامیہ نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

    علاقائی صورتحال پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں جانب سے بیانات میں اضافے سے سرحدی کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

  • ایچ ای سی نے پرائیویٹ اور سالانہ نظام کے ایسوسی ایٹ ڈگری پروگراموں میں نئے داخلوں پر پابندی لگا دی

    ایچ ای سی نے پرائیویٹ اور سالانہ نظام کے ایسوسی ایٹ ڈگری پروگراموں میں نئے داخلوں پر پابندی لگا دی

    ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے تمام ملحقہ کالجوں اور جامعات کو باضابطہ نوٹیفکیشن کے ذریعے ہدایت کی ہے کہ سالانہ امتحانی نظام اور پرائیویٹ امیدواروں کے موڈ میں چلنے والے ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرامز (اے ڈی پی) میں نئے داخلے فوری طور پر روک دیے جائیں۔

    یہ ہدایت ایچ ای سی کی انڈرگریجویٹ ایجوکیشن پالیسی کے نفاذ کے طور پر جاری کی گئی ہے۔ روایتی دو سالہ بی اے/بی ایس سی ڈگریوں کی جگہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام متعارف کرایا گیا تھا، جو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق سمسٹر پر مبنی نصاب پر مشتمل ہے۔

    کمیشن کے مطابق متعدد اداروں نے محض پرانی بی اے/بی ایس سی ڈھانچے کو ”ایسوسی ایٹ ڈگری“ کا نام دے کر پیش کیا، بغیر مطلوبہ تعلیمی اصلاحات نافذ کیے۔ یہ پروگرام پرائیویٹ امیدواروں کی رجسٹریشن کے ذریعے صرف سالانہ امتحانی نظام پر چلائے جا رہے تھے، جو سمسٹر ڈھانچے، ہنر پر مبنی نصاب اور مسلسل داخلی جائزے کے تقاضوں کو نظرانداز کرتا ہے۔

    جامعات کو ہدایت کی گئی ہے کہ زیر تعلیم طلبہ کا یکجا اندراجی ڈیٹا جمع کرائیں، جس کی تصدیق رجسٹرار، کنٹرولر امتحانات اور وائس چانسلر کریں گے۔ مستقبل میں تمام ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرامز کو سرکاری سمسٹر پر مبنی پالیسی کے مطابق چلانا ہوگا۔

    پالیسی کے اعلان سے ہزاروں پرائیویٹ امیدواروں، ملازمت پیشہ افراد اور دور دراز کے طلبہ میں تشویش پیدا ہوئی ہے جو لچکدار تعلیمی سہولتوں پر انحصار کرتے ہیں۔ طلبہ تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پرائیویٹ راستے کی بندش معاشرے کے پسماندہ طبقات کے لیے تعلیم کا ایک اہم ذریعہ ختم کر دے گی۔

    اعلیٰ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ جامعات کو بالغ طلبہ میں داخلوں میں نمایاں کمی روکنے کے لیے سستی آن لائن یا مخلوط (بلینڈڈ) متبادل سہولتیں متعارف کرانی چاہئیں۔ رپورٹس کے مطابق اداروں کے رجسٹرار پہلے سے داخل طلبہ کے لیے عبوری رہنمائی کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم نئے داخلے سختی سے ممنوع ہیں۔

  • 4 اکتوبر لانگ مارچ سے قبل حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کا آغاز، اسپیکر چیمبر میں ملاقات

    4 اکتوبر لانگ مارچ سے قبل حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کا آغاز، اسپیکر چیمبر میں ملاقات

    اسلام آباد: حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وفود نے جمعہ کو اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے چیمبر میں مذاکرات کا آغاز کر دیا۔ یہ مذاکرات پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب اعلان کردہ لانگ مارچ سے قبل ہو رہے ہیں۔

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے جمعرات کو تصدیق کی تھی کہ ان کی جماعت نے حکومت کی مذاکرات کی دعوت قبول کر لی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے بدھ کو ملاقات کا پیغام موصول ہوا تھا جسے اپوزیشن رہنماؤں کے اجلاس میں ہونے والے فیصلے کی روشنی میں قبول کیا گیا۔

    اپوزیشن کے چھ رکنی وفد میں بیرسٹر گوہر علی خان، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ، عامر ڈوگر اور حلیم عادل شیخ شامل ہیں۔ حکومتی وفد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور پیپلز پارٹی کی شیری رحمان سمیت دیگر رہنما شامل ہیں۔

    اجلاس کے دوران وزیر داخلہ نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ پی ٹی آئی نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے انکار کے بعد اپنا وفد ازسرنو تشکیل دیا تھا، کیونکہ اچکزئی غیر جانبدار مقام پر مذاکرات چاہتے تھے۔

    پی ٹی آئی نے اپنا لانگ مارچ 27 ستمبر سے بڑھا کر 4 اکتوبر تک ملتوی کیا تھا۔ جماعت کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد بانی چیئرمین کی رہائی اور آئینی بالادستی کی بحالی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اس سے قبل “آف دی ریکارڈ” مذاکرات کی تصدیق کی تھی۔

    یاد رہے کہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان جمعرات کو ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر غور کیا گیا تھا، جس کے بعد مذاکرات کا فیصلہ ہوا۔

  • پی ایس ایکس نے کے ایس ای 100 انڈیکس کی تشکیل نو کر دی، چار کمپنیاں اندر، چار باہر

    پی ایس ایکس نے کے ایس ای 100 انڈیکس کی تشکیل نو کر دی، چار کمپنیاں اندر، چار باہر

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے مارچ سے اگست 2026 کی جائزہ مدت کے لیے بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس کی تشکیل نو کی ہے، جس کے تحت چار کمپنیاں یکم اکتوبر 2026 سے انڈیکس میں شامل اور چار باہر ہو گئی ہیں۔

    انڈیکس میں شامل ہونے والی کمپنیاں امیج پاکستان لمیٹڈ، تھٹہ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ، نشاط چونیاں پاور لمیٹڈ اور بینک مکرامہ لمیٹڈ ہیں، جو ہم نیٹ ورک لمیٹڈ، محمود ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ، پاکستان ایلومینیم بیوریج کینز لمیٹڈ اور رفحان میز پروڈکٹس کمپنی لمیٹڈ کی جگہ لیں گی۔

    ایکسچینج کے اعلان کے مطابق چار میں سے تین کمپنیوں کا اخراج مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے اصول کے تحت ہوا، جبکہ ہم نیٹ ورک کو سیکٹر کے اصول کے تحت انڈیکس سے نکالا گیا۔

    انڈیکس کی تشکیل نو سرمایہ کاروں کے لیے اس لیے اہم ہوتی ہے کیونکہ میوچل فنڈز، ای ٹی ایفس اور انڈیکس کو فالو کرنے والی دیگر مصنوعات اپنی ہولڈنگز کو ان تبدیلیوں کے مطابق ڈھالتی ہیں، جس سے متاثرہ اسٹاکس میں کاروباری سرگرمی عموماً بڑھ جاتی ہے۔

  • عالمی ڈیزل بحران گہرا: چین نے ایندھن کی برآمدات روک دیں، روس نے پابندیوں کے خاتمے کی شرط لگا دی

    عالمی ڈیزل بحران گہرا: چین نے ایندھن کی برآمدات روک دیں، روس نے پابندیوں کے خاتمے کی شرط لگا دی

    چین کی بڑی ریفائنری کمپنیوں نے اکتوبر کے لیے ڈیزل، پٹرول اور جیٹ فیول کی زیادہ تر برآمدات معطل کر دی ہیں، کیونکہ بیجنگ گھریلو سپلائی کی سلامتی کو ترجیح دے رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے پہلے سے محدود عالمی ایندھن منڈی سے ایک اور بڑا ذریعہ نکل گیا ہے۔

    روسی صدر ولادی میر پوتن نے جمعرات کو ماسکو میں والدائی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ماسکو پر عائد پابندیاں ختم نہیں ہوتیں، روس عالمی توانائی منڈیوں کو اپنا ڈیزل فراہم نہیں کرے گا۔ پوتن نے یہ بھی کہا کہ یوکرین نے روسی آئل ریفائنریوں پر حملوں سے اپنے ‘مقاصد جزوی طور پر حاصل کیے’ اور ان حملوں سے روس کو مجموعی قومی پیداوار کا ایک فیصد نقصان ہوا۔

    دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق یوکرین نے صدر ٹرمپ کی مخالفت کے باوجود روسی ریفائنریوں پر حملے جاری رکھے ہیں۔ یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے بتایا کہ کیف نے رات کے دوران روس کے سمارا علاقے میں تیل کی ایک تنصیب کو نشانہ بنایا۔ ٹرمپ نے زیلنسکی سے نجی ٹیلی فونک گفتگو میں ان حملوں کو روکنے کی اپیل کی تھی اور عوامی سطح پر کہا تھا کہ عالمی ایندھن کی قلت کے ذمہ دار یوکرین کے حملے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق برطانیہ اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ ہنگامی ڈیزل ذخائر کے اجراء پر بات چیت کر رہا ہے، کیونکہ ٹرمپ نے امریکا کی طرف سے ایندھن کی سپلائی بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ برطانیہ پہلے سے ہی سردیوں کے موسم سے پہلے توانائی کی فراہمی کے حوالے سے فکر مند ہے۔

    معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قلت سے عالمی سطح پر مہنگائی کا دباؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ یورپی ایئر لائنز پہلے ہی پروازوں کی منسوخی میں توسیع کر چکی ہیں۔

  • آئی سی سی نے کرکٹ کے نئے کھیل شرائط متعارف کرا دیے، یکم اکتوبر سے نافذ

    آئی سی سی نے کرکٹ کے نئے کھیل شرائط متعارف کرا دیے، یکم اکتوبر سے نافذ

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بین الاقوامی کرکٹ کے کھیل شرائط میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے، جو یکم اکتوبر 2026 کے بعد شروع ہونے والی تمام سیریز پر نافذ ہوں گی۔ پہلے سے جاری سیریز پرانے اصولوں کے تحت مکمل ہوں گی۔

    سب سے اہم تبدیلی مینز کرکٹ میں بیٹسمین کے وقت ضائع کرنے سے متعلق ہے۔ گیند کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہ ہونے والے بیٹسمین کو پہلی بار خبردار کیا جائے گا، دوسری بار آخری وارننگ ملے گی، اور تیسری مرتبہ سے ہر خلاف ورزی پر فیلڈنگ ٹیم کو پانچ پنالٹی رنز دیے جائیں گے۔ بار بار خلاف ورزی پر آئی سی سی ضابطہ اخلاق بھی حرکت میں آ سکتا ہے۔

    آئی سی سی نے مینز، ویمنز اور جونیئر کرکٹ کے لیے گیند کے سائز اور وزن کے الگ الگ معیار بھی مقرر کیے ہیں۔ ویمنز اور جونیئر کرکٹ کے لیے گیندوں کی پیمائش مزید درست کی گئی ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر یکسانیت قائم رہے۔

    فیلڈنگ کے اصول بھی واضح کر دیے گئے ہیں۔ اب اوور تھرو اسی وقت شمار ہوگا جب فیلڈر جان بوجھ کر گیند کو وکٹوں کی جانب پھینکے تاکہ رنز روکے یا رن آؤٹ کرے؛ عام مس فیلڈنگ اوور تھرو نہیں کہلائے گی۔ رن آؤٹ یا اسٹمپنگ کے لیے فیلڈر کا گیند پر مکمل کنٹرول ہونا ضروری ہوگا، جبکہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں لیگ سائیڈ وائیڈ کا تجرباتی قانون مستقل کر دیا گیا ہے۔

    ٹیسٹ کرکٹ میں ٹیمیں میچ سے پہلے باہمی اتفاق سے ڈے ٹیسٹ میں گلابی گیند کے استعمال پر راضی ہو سکتی ہیں تاکہ خراب روشنی کی وجہ سے کھیل میں خلل کم ہو، تاہم میچ کے دوران گیند تبدیل نہیں کی جا سکے گی۔ دن کے آخری اوور میں وکٹ گرنے پر کھیل خود بخود ختم نہیں ہوگا اگر باقی گیندیں کرائی جا سکیں۔

    محدود اوورز کی کرکٹ میں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز میں وقفہ 15 منٹ مقرر کیا گیا ہے، جسے وقت ضائع ہونے کی صورت میں کم از کم 10 منٹ تک کیا جا سکتا ہے، جبکہ ہیڈ کوچ یا ان کا نمائندہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں ڈرنکس بریک کے دوران میدان میں داخل ہو سکے گا۔

  • آزاد کشمیر کی ترقی — بنیادی ڈھانچے سے آگے کی سوچ

    آزاد کشمیر کی ترقی — بنیادی ڈھانچے سے آگے کی سوچ

    آزاد کشمیر قدرتی حسن سے مالا مال خطہ ہے، لیکن اس کی ترقیاتی کہانی ابھی ادھوری ہے۔ ہر سال ترقیاتی بجٹ کا اعلان ہوتا ہے، نئی سڑکوں اور منصوبوں کے وعدے کیے جاتے ہیں، مگر عام شہری کی زندگی میں ٹھوس بہتری کی رفتار سست ہے۔

    مسئلہ وسائل کی کمی سے زیادہ ترجیحات کے تعین کا ہے۔ سڑکیں ضرور بنیں، لیکن ان سڑکوں تک پہنچنے والے اسکولوں اور اسپتالوں کی حالت کیا ہے؟ ایک ایسا خطہ جہاں سیاحت کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، وہاں بنیادی سہولتوں کی کمی سیاحوں کو بھی مایوس کرتی ہے اور مقامی آبادی کو بھی۔

    تعلیم کے شعبے میں آزاد کشمیر کی شرح خواندگی دیگر خطوں سے بہتر بتائی جاتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ تعلیم روزگار سے کتنی جڑی ہے؟ ہزاروں نوجوان ڈگریاں لے کر بیروزگاری کا شکار ہیں۔ تعلیم اور مارکیٹ کی ضروریات کے درمیان فاصلہ کم کیے بغیر ترقی کا دعویٰ ادھورا رہے گا۔

    صحت کا شعبہ بھی توجہ کا متقاضی ہے۔ دور دراز علاقوں میں بنیادی طبی سہولتوں کی کمی کی وجہ سے مریضوں کو بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ ٹیلی میڈیسن اور موبائل ہیلتھ یونٹس جیسے جدید ذرائع سے اس خلا کو کم کیا جا سکتا ہے۔

    سیاحت آزاد کشمیر کی معیشت کا سب سے بڑا قدرتی اثاثہ ہے۔ وادی نیلم، راولاکوٹ اور دیگر علاقے ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ سکتے ہیں، بشرطیکہ انفراسٹرکچر، صفائی اور سیاحوں کی حفاظت کا باقاعدہ نظام قائم کیا جائے۔ مقامی کمیونٹی کو سیاحت سے براہ راست فائدہ پہنچانے کے ماڈل بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔

    ایک اور اہم نکتہ مقامی حکومتوں کا مضبوط نظام ہے۔ ترقیاتی فیصلے جب مقامی سطح پر عوام کی شمولیت سے ہوتے ہیں تو ان کے نتائج بھی بہتر ہوتے ہیں۔ بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنائے بغیر ترقی کا عمل مرکزیت کا شکار رہے گا۔

    آخر میں، آزاد کشمیر کی ترقی کا پیمانہ عمارتوں کی تعداد نہیں، بلکہ عام شہری کے معیار زندگی میں بہتری ہونا چاہیے۔ پائیدار ترقی کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی، شفافیت اور احتساب ناگزیر ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو خطے کو اس کی صلاحیتوں کے مطابق مقام دلا سکتا ہے۔

  • سندھ اور خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے مشتبہ کیسز میں نمایاں اضافہ

    سندھ اور خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے مشتبہ کیسز میں نمایاں اضافہ

    نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) اسلام آباد کے انٹیگریٹڈ ڈیزیز سرویلنس اینڈ رسپانس (آئی ڈی ایس آر) کے ہفتہ وار بلیٹن کے مطابق اگست 2026 کے دوران سندھ اور خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے مشتبہ کیسز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    بلیٹن کے مطابق سندھ میں مشتبہ ڈینگی کیسز اگست کے پہلے ہفتے میں 51 سے بڑھ کر آخری ہفتے میں 173 ہو گئے، جبکہ خیبرپختونخوا میں یہ تعداد 65 سے بڑھ کر 263 تک پہنچ گئی۔ بلوچستان میں کیسز 3 سے کم ہو کر ایک رہ گئے، جبکہ پنجاب نے بلیٹن میں رپورٹ جمع نہیں کرائی۔

    یہ اعداد و شمار مشتبہ کیسز کے ہیں، لیبارٹری سے تصدیق شدہ نہیں۔ بلیٹن کے مطابق بخار اور جسم میں درد کی صورت میں ٹیسٹ سے پہلے بھی کسی مریض کو شمار کیا جا سکتا ہے۔

    بلیٹن میں ڈینگی کو ان بیماریوں میں شامل کیا گیا ہے جن میں اس ہفتے اضافہ ہوا۔ کراچی میں 2026 میں ڈینگی سے پہلی موت مارچ میں رپورٹ ہوئی تھی۔

    بلیٹن کراچی کے اضلاع کی سطح پر ڈینگی کے اعداد الگ نہیں کرتا، اس لیے یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ 173 میں سے کتنے کیسز کراچی کے تھے۔

  • امریکا کی پاکستان کو یقین دہانی، مسئلہ کشمیر پر مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں

    امریکا کی پاکستان کو یقین دہانی، مسئلہ کشمیر پر مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں

    یہ یقین دہانی بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور کے 19 اگست کو سرینگر کے دورے کے دوران دیے گئے بیان کے بعد مانگی گئی تھی، جس میں انہوں نے جموں و کشمیر کو بھارت کا “اہم حصہ” قرار دیا تھا۔ پاکستان نے ان ریمارکس پر احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور کو طلب کیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق امریکی حکام نے پاکستانی ہم منصبوں کو بتایا کہ ان کی پالیسی میں “کوئی تبدیلی نہیں ہوئی” اور مسئلہ کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان حل طلب تنازع کے طور پر دیکھنے کا مؤقف برقرار ہے۔

    یہ معاملہ کشمیر سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین رانا محمد قاسم نون سے متعلق ایک میڈیا گفتگو کے دوران بھی زیر بحث آیا، جس میں امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ بھی شریک تھے۔

    پاکستان طویل عرصے سے امریکا سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر اپنے مؤقف میں تسلسل برقرار رکھے، جبکہ بھارت اسے اپنا اندرونی معاملہ قرار دیتا ہے۔