Language: Urdu

  • ‘شیروز’ آج سینما گھروں میں ریلیز، پاکستانی سینما کے لیے اکتوبر اہم مہینہ

    ‘شیروز’ آج سینما گھروں میں ریلیز، پاکستانی سینما کے لیے اکتوبر اہم مہینہ

    پاکستانی سینما گھروں میں آج 2 اکتوبر کو مقامی فلم “شیروز” ریلیز ہو رہی ہے۔ یہ اردو اینتھالوجی ڈرامہ اس ماہ کی واحد پاکستانی فلم ہے جس کی ریلیز کی تاریخ سینما چین کی لسٹنگ میں تصدیق شدہ ہے۔

    یہ فلم مقامی سینما کے لیے غیر معمولی خاموش موسم خزاں میں آ رہی ہے۔ اکتوبر سے دسمبر کی مدت میں کوئی عید نہیں آ رہی — اس سال عید الفطر اور عید الاضحیٰ بالترتیب مارچ اور مئی میں منائی گئیں، جب اسٹوڈیوز روایتی طور پر اپنی بڑی فلمیں ریلیز کرتے ہیں — اور نومبر یا دسمبر کے لیے ابھی تک کسی پاکستانی فلم کی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا۔

    افق پر دوسری تاریخ شدہ مقامی ریلیز پنجابی ایکشن کامیڈی “مینگو جٹ” ہے، جس کی ریلیز کی تاریخ 16 اکتوبر بتائی گئی ہے اور جس کا ٹریلر 16 ستمبر کو جاری ہوا تھا۔

    صنعت کے مبصرین، جن میں سینئر صحافی عمیر علوی بھی شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ اگر یہ دونوں فلمیں ناظرین کو دوبارہ سینما گھروں کی طرف لے آئیں تو اکتوبر پاکستانی سینما کے لیے اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

    پاکستان میں اینتھالوجی فلمیں نایاب ہیں، اور اردو ڈرامہ “شیروز” کو اس تناظر میں دیکھا جائے گا کہ کیا درمیانے بجٹ کی مقامی کہانیاں بڑی عید ریلیزوں کے درمیان بڑی اسکرین پر جگہ بنا سکتی ہیں۔

  • ایچ ای سی نیشنل ریسرچ پروگرام 2026: تحقیقی گرانٹس کے لیے درخواستیں، آخری تاریخ 30 اکتوبر

    ایچ ای سی نیشنل ریسرچ پروگرام 2026: تحقیقی گرانٹس کے لیے درخواستیں، آخری تاریخ 30 اکتوبر

    ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے نیشنل ریسرچ پروگرام فار یونیورسٹیز (این آر پی یو) 2026 کے تحت تحقیقی گرانٹس کے لیے درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ پرنسپل انویسٹی گیٹرز کو 30 اکتوبر 2026 (جمعہ) تک آن لائن پورٹل کے ذریعے اپنے منصوبوں کے ابتدائی خاکے جمع کرانے ہوں گے۔

    درخواست کے ساتھ 5 ہزار روپے ناقابل واپسی درخواست فیس جمع کرانی ہوگی، جو ون لنک یا ون بل انوائس سروس کے ذریعے موبائل یا انٹرنیٹ بینکنگ سے ادا کی جا سکتی ہے۔

    تشخیص دو مرحلوں میں ہوگی۔ پہلے مرحلے میں ابتدائی خاکوں کا جائزہ لیا جائے گا، اور صرف منتخب محققین کو دوسرے مرحلے میں مکمل تفصیلی تجاویز جمع کرانے کی دعوت دی جائے گی۔

    ایچ ای سی نے خبردار کیا ہے کہ جن جامعات کے پانچ سے زائد تاخیر شدہ یا غیر طے شدہ تحقیقی کیسز ہوں گے، وہ خودکار طور پر نااہل قرار پائیں گی۔

    کمیشن مقامی محققین اور غیر ملکی اداروں کے درمیان مشترکہ تجاویز کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ ترجیحی بین الاقوامی شراکت داروں میں سعودی عرب، ترکیہ، چین، امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، وسط ایشیائی ریاستیں، جاپان، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، جنوبی کوریا اور سنگاپور شامل ہیں۔ ان شراکت داریوں کا مقصد صنعت کی ضروریات کے مطابق حل پر مبنی تحقیق تیار کرنا ہے۔

    سوالات کے لیے محققین 051-90401904 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

  • مسئلہ کشمیر — امن کا راستہ بات چیت سے ہی نکلے گا

    مسئلہ کشمیر — امن کا راستہ بات چیت سے ہی نکلے گا

    جنوبی ایشیا کی سیاست پر نظر ڈالیں تو ایک مسئلہ دہائیوں سے اپنی جگہ قائم ہے — مسئلہ کشمیر۔ یہ تنازع دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ہے، اور اس کی قیمت دونوں طرف کے عام شہری ادا کر رہے ہیں۔

    تاریخ گواہ ہے کہ اس مسئلے پر جنگیں بھی ہوئیں اور مذاکرات بھی۔ جنگوں نے مسئلہ حل نہیں کیا؛ انہوں نے صرف زخم گہرے کیے۔ مذاکرات جب بھی سنجیدگی سے ہوئے، امید کی کرن نظر آئی — اور جب تعطل آیا، صورتحال پھر بگڑی۔

    کشمیری عوام اس تنازع کا مرکزی فریق ہیں۔ ان کی زندگیاں لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف متاثر ہوتی ہیں۔ کوئی بھی پائیدار حل ان کی خواہشات اور ان کے بنیادی حقوق کو نظرانداز کر کے ممکن نہیں۔

    معاشی پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں ممالک دفاع پر جو وسائل خرچ کرتے ہیں، ان کا ایک حصہ بھی اگر تعلیم، صحت اور ترقی پر لگے تو خطے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ امن کا منافع جنگ کے خرچ سے کہیں زیادہ ہے۔

    بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری بھی ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد کا سیاسی ارادہ ناپید ہے۔ عالمی طاقتوں کو اس مسئلے کو محض بیانات تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔

    اعتماد سازی کے اقدامات — تجارت، عوامی رابطے، صحافتی تبادلے — چھوٹے قدم لگتے ہیں، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ بڑے معاہدوں کی بنیاد انہی چھوٹے قدموں پر رکھی جاتی ہے۔

    میڈیا کا کردار بھی اہم ہے۔ دونوں طرف کے میڈیا کو چاہیے کہ وہ جنگی جنون پھیلانے کے بجائے امن کی آواز بنیں۔ نفرت کی تجارت آسان ہے، مفاہمت کی صحافت مشکل — اور اسی لیے قیمتی ہے۔

    نوجوان نسل اس مسئلے کو پرانی عینک سے نہیں دیکھتی۔ وہ روزگار، تعلیم اور بہتر مستقبل چاہتی ہے۔ پالیسی سازوں کو اس نسل کی امنگوں کو سمجھنا ہوگا۔

    راستہ واضح ہے: مسلسل، بامعنی اور نتیجہ خیز بات چیت۔ اس میں تاخیر کا مطلب مزید دہائیوں کا تعطل ہے — اور اس تعطل کی قیمت آنے والی نسلیں ادا کریں گی۔

  • ایشین گیمز فائنل میں پاکستان اور بھارت کا ٹاکرا، گولڈ میڈل داؤ پر

    ایشین گیمز فائنل میں پاکستان اور بھارت کا ٹاکرا، گولڈ میڈل داؤ پر

    ایشین گیمز 2026 کے مینز کرکٹ ٹورنامنٹ میں فائنل کی صورتحال واضح ہو گئی ہے؛ پاکستان اور بھارت نے اپنے اپنے سیمی فائنل جیت کر 3 اکتوبر کو گولڈ میڈل کے مقابلے میں پہنچنے کی جگہ بنا لی۔

    دفاعی چیمپئن بھارت نے کوروجی اسپورٹس پارک میں سری لنکا کو 124 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دی۔ پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بھارت نے سات وکٹوں پر 169 رنز بنائے، جس میں ایشان کشن نے 46 گیندوں پر ناقابل شکست 80 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جبکہ نوجوان ویبھو سوریاونشی نے 21 گیندوں پر 38 رنز بنائے۔

    اس کے بعد بھارتی گیند بازوں نے سری لنکا کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر دیا۔ جسپریت بمراہ نے پہلے ہی اوور میں دو وکٹیں حاصل کیں، تین رن آؤٹ ہوئے اور سری لنکا 9.5 اوورز میں محض 45 رنز پر ڈھیر ہو گیا۔ ابھیشیک شرما نے پانچ گیندوں پر دو وکٹیں حاصل کیں۔

    اس سے پہلے پاکستان نے بارش سے متاثرہ 13 اوورز کے پہلے سیمی فائنل میں بنگلہ دیش کو چھ وکٹوں سے شکست دی تھی، جس میں عبدالصمد کے ناقابل شکست 30 رنز اور سفیان مقیم کی تین وکٹیں نمایاں رہیں۔

    یہ فائنل ایشین گیمز کی مینز کرکٹ میں پاکستان اور بھارت کا پہلا مقابلہ ہوگا۔ بھارت کے پاس 2023 کا ٹائٹل دفاع کرنے کا موقع ہوگا، جبکہ پاکستان کو کم از کم چاندی کا تمغہ یقینی مل چکا ہے جو اس کا اب تک کا بہترین نتیجہ ہے۔ اسی روز سری لنکا اور بنگلہ دیش کانسی کے تمغے کے لیے مدمقابل ہوں گی۔

  • پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 26 پیسے اضافہ، فی لیٹر 390 روپے 66 پیسے ہو گیا؛ ڈیزل سستا

    پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 26 پیسے اضافہ، فی لیٹر 390 روپے 66 پیسے ہو گیا؛ ڈیزل سستا

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے جمعرات کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 26 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے ایک پیسہ فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔ نئی قیمتیں جمعہ 2 اکتوبر سے نافذ ہو گئی ہیں۔

    پٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت 387 روپے 40 پیسے سے بڑھ کر 390 روپے 66 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 400 روپے 35 پیسے سے کم ہو کر 399 روپے 34 پیسے فی لیٹر مقرر کیا گیا ہے۔

    یہ ردوبدل پاکستان کے یومیہ پٹرولیم قیمتوں کے نظام کے تحت کیا گیا ہے، جس میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) بین الاقوامی تیل کی قیمتوں اور درآمدی اخراجات کی بنیاد پر قیمتیں طے کرتی ہے۔ نیا نظام بین الاقوامی قیمتوں کے سات روزہ اوسط پر مبنی ہے۔

    پٹرولیم وزیر علی پرویز ملک کے مطابق یومیہ قیمتوں کا نظام صارفین کو عالمی منڈی کی تبدیلیوں کا فوری فائدہ پہنچانے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پٹرول پر تقریباً 114 روپے اور ڈیزل پر تقریباً 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیاں عائد ہیں۔

    قابل ذکر ہے کہ یہ اضافہ یکم اکتوبر کو دی گئی معمولی رعایت کے ایک روز بعد ہوا ہے، جب پٹرول کی قیمت میں صرف 14 پیسے کی کمی کی گئی تھی۔ عالمی منڈی میں مشرق وسطی کی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں غیر مستحکم ہیں۔

  • علی ظفر 20 سال بعد ٹی وی ڈرامے میں واپسی کے لیے تیار، ‘لہو’ میں سجل علی اور بلال عباس کے ساتھ

    علی ظفر 20 سال بعد ٹی وی ڈرامے میں واپسی کے لیے تیار، ‘لہو’ میں سجل علی اور بلال عباس کے ساتھ

    علی ظفر دو دہائیوں سے زائد کے وقفے کے بعد ٹی وی ڈراموں میں واپسی کے لیے تیار ہیں۔ وہ آنے والے ڈرامہ سیریل “لہو” میں سجل علی اور بلال عباس خان کے ساتھ نظر آئیں گے، اور اس کاسٹنگ کے اعلان نے سوشل میڈیا پر مداحوں میں جوش پیدا کر دیا ہے۔

    “لہو” سقلین عباس نے تحریر کیا ہے جبکہ اس کی ہدایت کاری سید وجاہت حسین کر رہے ہیں۔ ظفر کے کردار کی تفصیلات ابھی خفیہ رکھی گئی ہیں، تاہم صنعت کے دو بڑے ناموں کے ساتھ ان کی جوڑی اس بات کی علامت ہے کہ کردار اہم ہوگا۔

    علی ظفر نے 2000 کی دہائی کے آغاز میں ٹی وی سیریل “کالج جینز” سے اداکاری کا سفر شروع کیا تھا، اس کے بعد وہ بالی ووڈ فلموں میں بھی نظر آئے اور گلوکاری اور مصوری میں بھی نام کمایا۔ ان کا آخری بڑا اداکاری پراجیکٹ پاکستانی ہٹ فلم “طیفہ ان ٹربل” تھا۔

    واپسی کی خبر سامنے آنے کے بعد سے سوشل میڈیا پر مداحوں کے پیغامات کی بھرمار ہے، جس میں “ڈراموں میں واپسی پر خوش آمدید” جیسے تبصرے بھی شامل ہیں، جو ان کی چھوٹی اسکرین پر واپسی کے حوالے سے توقعات کو ظاہر کرتے ہیں۔

    ڈرامے کی نشریات کی تاریخ کا ابھی اعلان نہیں ہوا۔ صنعت کے مبصرین کے مطابق تین بڑے ناموں کو یکجا کرنے والی یہ کاسٹنگ “لہو” کو آنے والے سیزن کے سب سے متوقع ٹی وی پراجیکٹس میں شامل کرتی ہے۔

  • بہترین یونیورسٹی ٹیچر ایوارڈ 2026 کے لیے نامزدگیوں کی آخری تاریخ 7 اکتوبر

    بہترین یونیورسٹی ٹیچر ایوارڈ 2026 کے لیے نامزدگیوں کی آخری تاریخ 7 اکتوبر

    ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاکستان بھر کی جامعات سے بہترین یونیورسٹی ٹیچر ایوارڈ 2026 کے لیے نامزدگیاں طلب کر لی ہیں۔ یہ ایوارڈ تدریس، طلبہ کی تعلیم، جدت اور تعلیمی ترقی میں نمایاں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو دیا جائے گا۔

    ایچ ای سی سے تسلیم شدہ سرکاری اور نجی دونوں اعلیٰ تعلیمی ادارے نامزدگی کے عمل میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ہر اہل ادارہ یونیورسٹی سطح کی کمیٹی کے ذریعے ایک فیکلٹی رکن کو نامزد کر سکتا ہے۔

    جامعات کو اپنی نامزدگیاں 7 اکتوبر 2026 تک جمع کرانی ہوں گی۔ مکمل نامزدگی دستاویزات ڈائریکٹر جنرل (اکیڈمکس)، ایچ ای سی، اسلام آباد کے دفتر تک مقررہ تاریخ سے پہلے پہنچنی چاہئیں۔

    نامزدگی میں منتخب استاد کا مکمل ڈوزیئر، یونیورسٹی سطح کی کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی (منٹس)، ڈوزیئر کی سافٹ کاپی اور ایوارڈ فریم ورک کے تحت درکار دیگر دستاویزات شامل ہونی چاہئیں۔

    حکام کے مطابق جامعات سے توقع ہے کہ وہ ایسے اساتذہ کا انتخاب کریں جنہوں نے تدریس میں مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہو اور طلبہ کی تعلیم و تعلیمی ترقی میں بامعنی کردار ادا کیا ہو۔

  • قومی اسمبلی کے اسپیکر کے چیمبر میں حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات، مطالبات کا تبادلہ

    قومی اسمبلی کے اسپیکر کے چیمبر میں حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات، مطالبات کا تبادلہ

    حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں مذاکرات ہوئے ہیں، جس میں دونوں فریقوں نے اپنے اپنے مطالبات پیش کیے۔ رپورٹس کے مطابق یہ ملاقات 4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے متعلق کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ تھی۔

    ذرائع کے مطابق مذاکرات میں حکومت کی جانب سے امن و امان کی صورتحال اور سیکیورٹی انتظامات کا نکتہ اٹھایا گیا، جبکہ اپوزیشن نے پرامن احتجاج کے آئینی حق اور اپنے مطالبات پر بات کی۔

    رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہِ راست رابطہ قائم ہو چکا ہے اور جمعہ کو وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کے مشترکہ وفد کی پی ٹی آئی رہنماؤں سے ملاقات بھی طے ہے۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اسپیکر کے چیمبر میں ہونے والے یہ مذاکرات لانگ مارچ سے پہلے کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش ہیں، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ دونوں فریق کسی حتمی سمجھوتے تک پہنچ سکیں گے۔

    دوسری جانب اسلام آباد میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات جاری ہیں اور وفاقی دارالحکومت کی طرف جانے والے بڑے راستوں پر کنٹینر لگائے گئے ہیں۔

  • مدینہ منورہ کے طیبہ پاور اسٹیشن پر حوثی حملے کی پاکستان کی شدید مذمت

    مدینہ منورہ کے طیبہ پاور اسٹیشن پر حوثی حملے کی پاکستان کی شدید مذمت

    ترجمان دفتر خارجہ سفیر سجاد حیدر خان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مسجد نبوی ﷺ کو بجلی فراہم کرنے والے شہری بنیادی ڈھانچے کے خلاف یہ قابل مذمت حملہ سنگین اشتعال انگیزی ہے اور دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے لیے گہری تشویش اور رنج کا باعث ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ حرمین شریفین کی حرمت اور زائرین و عمرہ زائرین کی سلامتی کا ہر حال میں احترام کیا جانا چاہیے۔

    سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان ایسی بے لگام کارروائیوں کے فوری اور غیر مشروط خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے، جو علاقائی امن و سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے اور مملکت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ، اپنے عوام کی حفاظت اور زائرین کی سلامتی یقینی بنانے کی سعودی کوششوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

    بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ پاکستان خطے میں دیرپا امن و استحکام کے حصول کے لیے تمام کوششیں جاری رکھے گا۔

  • تعلیمی اصلاحات — نصاب سے زیادہ نظام کی ضرورت

    تعلیمی اصلاحات — نصاب سے زیادہ نظام کی ضرورت

    پاکستان میں جب بھی تعلیمی اصلاحات کی بات ہوتی ہے، بحث عموماً نصاب کی تبدیلی تک محدود رہ جاتی ہے۔ نصاب اہم ہے، لیکن یہ تعلیمی نظام کا صرف ایک حصہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کلاس روم میں کیا پڑھایا جا رہا ہے اور کون پڑھا رہا ہے۔

    اساتذہ کی تربیت تعلیمی اصلاحات کا سب سے نظرانداز شدہ پہلو ہے۔ ایک غیر تربیت یافتہ استاد بہترین نصاب کو بھی بے اثر بنا سکتا ہے، جبکہ ایک اچھا استاد محدود وسائل میں بھی معیاری تعلیم دے سکتا ہے۔ اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی میں سرمایہ کاری دراصل تعلیم میں سرمایہ کاری ہے۔

    دوسرا بڑا مسئلہ اسکولوں کا انتظام ہے۔ کئی سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں — صاف پانی، بیت الخلا، بجلی — کی کمی ہے۔ جو بچہ اسکول میں بنیادی سہولت سے محروم ہو، اس سے معیاری تعلیم کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟

    تیسرا نکتہ تعلیم اور روزگار کا رشتہ ہے۔ ہمارا نظام ایسے گریجویٹ پیدا کر رہا ہے جن کے پاس ڈگریاں تو ہیں مگر ہنر نہیں۔ فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کو ثانوی حیثیت دینے کے بجائے اسے مرکزی دھارے میں لانا ہوگا۔ ہر طالب علم یونیورسٹی نہیں جائے گا — اور اس میں کوئی برائی نہیں، بشرطیکہ اس کے پاس باعزت روزگار کا راستہ ہو۔

    زبان کا مسئلہ بھی حل طلب ہے۔ ابتدائی تعلیم مادری یا علاقائی زبان میں دینے کے حق میں مضبوط تعلیمی دلائل موجود ہیں، جبکہ انگریزی کو ایک مضمون کے طور پر پڑھایا جا سکتا ہے۔ زبان کو طبقاتی تقسیم کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے سیکھنے کا ذریعہ بنانا چاہیے۔

    آخر میں، تعلیمی اصلاحات کا پیمانہ امتحانی نتائج نہیں، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ ہمارے بچے سوچنا، سوال کرنا اور مسائل حل کرنا سیکھ رہے ہیں یا نہیں۔ یہ تبدیلی ایک دن میں نہیں آئے گی، لیکن اس کی سمت آج ہی طے کرنا ہوگی۔