Language: Urdu

  • نیلسن برطانیہ — کونسلر راجہ محمد اقبال کی پریس کانفرنس

    نیلسن برطانیہ: کونٹی کونسلر راجہ محمد اقبال — حیات نیوز کی ویڈیو رپورٹ

  • آزاد کشمیر فوڈ اتھارٹی کیوں کام نہیں کر پا رہی؟

    پنجاب فوڈ اتھارٹی کی طرز پر آزاد کشمیر فوڈ اتھارٹی کیوں کام نہیں کر پا رہی؟ ناقص اور مضر صحت اشیاء — ویڈیو رپورٹ

  • مظفرآباد کا فضائی منظر

    مظفرآباد کا فضائی منظر

    Muzaffarabad cityscape — file photo

  • صحافتی اخلاقیات — خبر کی دوڑ میں سچ کی حفاظت

    صحافتی اخلاقیات — خبر کی دوڑ میں سچ کی حفاظت

    صحافت کا بنیادی اصول سادہ ہے: سچ بتاؤ، اور اسے ثابت کر کے بتاؤ۔ لیکن آج کی میڈیا کی دنیا میں یہ اصول دباؤ میں ہے — رفتار کا دباؤ، ریٹنگ کا دباؤ، اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کا دباؤ۔

    بریکنگ نیوز کی ثقافت نے تصدیق کے عمل کو کمزور کیا ہے۔ خبر پہلے نشر کرنا اب خبر صحیح نشر کرنے سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ نتیجہ؟ غلط اعداد، غیر مصدقہ ویڈیوز، اور بعد میں دبی آواز میں معذرتیں۔

    ذرائع کا تحفظ صحافت کی روح ہے، لیکن گمنام ذرائع کا بے جا استعمال بھی ایک مسئلہ ہے۔ “ذرائع کے مطابق” کا جملہ جب بغیر ثبوت کے ہر خبر میں استعمال ہو تو قارئین کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔

    سنسنی خیزی ایک اور بیماری ہے۔ جرم، سیاست اور حادثات کی خبروں میں جذباتی زبان، غیر ضروری تفصیلات اور متاثرین کی نجی زندگی کی نمائش — یہ سب قارئین کی تعداد تو بڑھا سکتے ہیں، مگر صحافت کی عزت گھٹاتے ہیں۔

    سوشل میڈیا نے ہر شہری کو ناشر بنا دیا ہے، لیکن صحافتی ذمہ داری نہیں دی۔ صحافیوں کو اب نہ صرف خود درست رہنا ہے بلکہ غلط معلومات کے سیلاب میں قارئین کی رہنمائی بھی کرنی ہے۔ فیکٹ چیکنگ اب اختیاری نہیں، لازمی ہنر ہے۔

    اشتہارات اور مالکان کا دباؤ بھی حقیقت ہے۔ جب خبر کا فیصلہ نیوز روم کے بجائے بزنس ڈیپارٹمنٹ کرنے لگے تو صحافتی آزادی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ادارتی خودمختاری کا تحفظ میڈیا مالکان اور صحافیوں دونوں کی ذمہ داری ہے۔

    حل کیا ہے؟ مضبوط ادارتی ضابطے، شفاف تصحیح کی پالیسی، صحافیوں کی مسلسل تربیت، اور سب سے بڑھ کر — قارئین کا وہ اعتماد جو صرف سچائی سے کمایا جا سکتا ہے۔

    جمہوریت کو آزاد صحافت کی ضرورت ہے، اور آزاد صحافت کو اخلاقیات کی۔ ایک ایسی صحافت جو سچ کو رفتار پر قربان نہ کرے — یہی ڈیجیٹل دور کا اصل چیلنج ہے۔

  • پنجابی ایکشن کامیڈی ‘مینگو جٹ’ 16 اکتوبر کو ریلیز ہوگی

    پنجابی ایکشن کامیڈی ‘مینگو جٹ’ 16 اکتوبر کو ریلیز ہوگی

    پنجابی ایکشن کامیڈی فلم “مینگو جٹ” جمعے 16 اکتوبر کو ریلیز ہوگی۔ یہ آج ریلیز ہونے والی “شیروز” کے بعد اکتوبر میں تصدیق شدہ تاریخ والی دوسری پاکستانی فلم ہے۔

    فلم کا ٹریلر 16 ستمبر کو جاری کیا گیا تھا، جس میں ناظرین کو سینما ریلیز سے پہلے فلم کی پہلی مکمل جھلک دکھائی گئی تھی۔

    فلم کی کاسٹ میں فیصل قریشی اور حریم فاروق شامل ہیں، جبکہ شمعون عباسی منفی کردار میں نظر آئیں گے۔ صنعت کے مبصرین کے مطابق یہ کاسٹ پنجابی سینما کے لیے باکس آفس پر اہم توقعات رکھتی ہے۔

    اکتوبر میں “شیروز” اور “مینگو جٹ” کی دو ریلیزوں پر صنعت کے مبصرین پرامید ہیں کہ مقامی فلمیں ناظرین کو دوبارہ سینما گھروں کی طرف لا سکتی ہیں۔ سینئر صحافی عمیر علوی نے اس ماہ کو پاکستانی سینما کے لیے ممکنہ طور پر اہم موڑ قرار دیا ہے۔

    نومبر یا دسمبر کے لیے فی الحال کسی پاکستانی فلم کی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا، اس لیے اکتوبر کی کارکردگی اس بات کا اہم اشارہ ہوگی کہ نمائش کار اور پروڈیوسر سال کے باقی حصے کی مقامی فلموں کی منصوبہ بندی کیسے کرتے ہیں۔

  • پنجاب بورڈز کے میٹرک سپلیمنٹری امتحانات 6 اکتوبر سے شروع ہوں گے

    پنجاب بورڈز کے میٹرک سپلیمنٹری امتحانات 6 اکتوبر سے شروع ہوں گے

    پنجاب کے نو بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے تحت میٹرک (نہم اور دہم جماعت) کے سپلیمنٹری امتحانات 6 اکتوبر 2026 سے شروع ہوں گے۔ نتائج کا اعلان 8 دسمبر 2026 کو متوقع ہے۔

    یہ شیڈول لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، ملتان، فیصل آباد، سرگودھا، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان اور ساہیوال سمیت تمام نو بورڈز پر یکساں طور پر لاگو ہوگا۔

    2026 کے سالانہ امتحانات میں میٹرک کے امتحانات رمضان کے پیش نظر 27 مارچ سے شروع ہوئے تھے۔ دہم جماعت کے نتائج کا اعلان 6 اگست اور نہم جماعت کے نتائج کا 2 ستمبر کو کیا گیا تھا۔

    انٹرمیڈیٹ کے سپلیمنٹری امتحانات 3 نومبر سے شروع ہوں گے اور نتائج 12 جنوری 2027 کو متوقع ہیں۔ انٹرمیڈیٹ سپلیمنٹری کے لیے داخلے سنگل فیس کے ساتھ 24 ستمبر سے 6 اکتوبر، ڈبل فیس کے ساتھ 13 اکتوبر اور ٹرپل فیس کے ساتھ 17 اکتوبر تک جمع کرائے جا سکتے ہیں۔

    پہلی سالانہ انٹرمیڈیٹ کے امتحانات 20 مئی سے شروع ہوئے تھے۔ بارہویں جماعت کے نتائج کا اعلان 23 ستمبر کو کیا گیا، جبکہ رپورٹس کے مطابق گیارہویں جماعت کے نتائج اکتوبر میں جاری کیے جائیں گے۔

  • نوجوان اور ٹیکنالوجی — ڈیجیٹل پاکستان کی اصل طاقت

    نوجوان اور ٹیکنالوجی — ڈیجیٹل پاکستان کی اصل طاقت

    پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ آبادیاتی حقیقت ایک چیلنج بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ ٹیکنالوجی وہ ذریعہ ہے جو اس چیلنج کو موقع میں بدل سکتا ہے۔

    فری لانسنگ اس کی واضح مثال ہے۔ ہزاروں پاکستانی نوجوان آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے بیرون ملک کے کلائنٹس کے لیے کام کر کے زر مبادلہ کما رہے ہیں۔ یہ آمدنی نہ صرف ان کے گھرانوں کو سہارا دیتی ہے بلکہ قومی معیشت میں بھی حصہ ڈالتی ہے۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا تعلیمی نظام اس ڈیجیٹل معیشت کے لیے نوجوان تیار کر رہا ہے؟ بدقسمتی سے جواب زیادہ تر نفی میں ہے۔ ڈگریاں پرانی طرز کی ہیں، جبکہ مارکیٹ نئے ہنر مانگتی ہے۔

    حل ڈیجیٹل خواندگی کو بنیادی تعلیم کا حصہ بنانے میں ہے۔ پرائمری سطح سے ہی بچوں کو کمپیوٹر سے روشناس کرایا جائے، اور ثانوی و اعلیٰ تعلیم میں پروگرامنگ، ڈیزائن اور ڈیٹا کے ہنر شامل کیے جائیں۔

    انٹرنیٹ کی سہولت بھی بنیادی حق بن چکی ہے۔ دیہی علاقوں میں تیز اور سستا انٹرنیٹ نہ ہونا ڈیجیٹل تقسیم کو بڑھا رہا ہے۔ شہر اور دیہات کے درمیان یہ خلا کم کیے بغیر ڈیجیٹل پاکستان کا خواب ادھورا رہے گا۔

    اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم میں بھی بہتری آ رہی ہے، لیکن نوجوان کاروباریوں کو اب بھی سرمایہ کاری، رہنمائی اور قانونی آسانیوں کی کمی کا سامنا ہے۔ حکومت کا کردار رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے راستے ہموار کرنے کا ہونا چاہیے۔

    ایک اور اہم پہلو آن لائن حفاظت ہے۔ نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا کے مواقع کے ساتھ ساتھ اس کے خطرات — فراڈ، ہراسانی، غلط معلومات — سے بھی آگاہ کرنا ضروری ہے۔

    ٹیکنالوجی خود کوئی جادو نہیں؛ یہ ایک آلہ ہے۔ اس آلے کو قوم کی ترقی کے لیے استعمال کرنا ہے یا ضائع کرنا، یہ فیصلہ ہماری پالیسیوں اور ترجیحات پر منحصر ہے۔ نوجوان تیار ہیں — کیا نظام تیار ہے؟

  • سری لنکا سیریز سے پہلے پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں بڑی تبدیلیوں کا امکان

    سری لنکا سیریز سے پہلے پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں بڑی تبدیلیوں کا امکان

    سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز سے پہلے پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی سیٹ اپ میں بڑی تبدیلیوں کا امکان ہے؛ میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹی ٹوئنٹی کپتان سلمان علی آغا سے قیادت کے ساتھ ساتھ اسکواڈ میں جگہ بھی چھن سکتی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق سلمان علی آغا، جنہوں نے 50 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز میں پاکستان کی قیادت کی اور 31 فتوحات سمیت ایشیا کپ 2025 کے فائنل تک رسائی حاصل کی، ٹیسٹ ٹیم سے پہلے ہی باہر ہیں اور اب ان کا کردار ون ڈے اسکواڈ تک محدود رہنے کا امکان ہے۔ اسٹار فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کے بھی ٹی ٹوئنٹی منصوبوں سے باہر ہونے کی خبریں ہیں، تاہم وہ ون ڈے کی قیادت جاری رکھنے کی توقع ہے۔

    رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ حارث رؤف کو بھی ٹی ٹوئنٹی سیٹ اپ سے باہر کر دیا گیا ہے، جبکہ صاحبزادہ فرحان اور شاداب خان کپتانی کے مضبوط ترین امیدوار ہیں۔ فرحان اس وقت جاپان میں ایشین گیمز میں پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں، جسے ان کے حق میں اہم نکتہ سمجھا جا رہا ہے۔ قیادت میں تبدیلی کے باوجود بابر اعظم کے ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے دونوں اسکواڈز میں شامل رہنے کی توقع ہے۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے اگلے ایک سے دو روز میں اسکواڈ اور نئی قیادت کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔ سری لنکا کے خلاف تین میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز 9 اکتوبر کو راولپنڈی میں شروع ہوگی، جبکہ باقی میچ 11 اور 13 اکتوبر کو کھیلے جائیں گے۔

    سری لنکا کا اسکواڈ 4 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچنے کا شیڈول ہے۔ ٹی ٹوئنٹی سیریز کے بعد انگلینڈ بھی دونوں ٹیموں کے ساتھ 18 سے 31 اکتوبر تک راولپنڈی اور لاہور میں سات میچوں کی ون ڈے ٹرائی سیریز کھیلے گا، جس کے بعد نومبر میں دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز ہوگی۔

  • افغانستان میں پاکستانی فضائی کارروائی، ہلاکتوں کے اعدادوشمار پر متضاد دعوے

    افغانستان میں پاکستانی فضائی کارروائی، ہلاکتوں کے اعدادوشمار پر متضاد دعوے

    طالبان حکام کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں 9 شہری جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں ہلاک اور 11 زخمی ہوئے جبکہ تین گھر تباہ ہوئے۔ انہوں نے ان حملوں کو “جارحیت اور جرم” قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔

    دوسری جانب پاکستان کی وزارت اطلاعات کے مطابق یہ کارروائیاں “قابل اعتماد انٹیلی جنس” کی بنیاد پر مسلح گروہوں بشمول تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ٹھکانوں کے خلاف کی گئیں۔ اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ کارروائی میں 22 عسکریت پسند ہلاک اور اسلحے و گولہ بارود کے ذخائر تباہ کیے گئے۔

    کنڑ سے آنے والی مقامی رپورٹس کے مطابق صوبے کے شلتن ضلع کے چوگام علاقے میں ایک شہری گھر کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ایک غریب چرواہے کے خاندان کے چھ افراد جن میں چار بچے شامل تھے ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ مقامی رہائشی مسافر خان نے بتایا کہ حملہ صبح تقریباً تین بجے ہوا اور مویشی بھی ہلاک ہوئے۔

    ڈیلی حیات ان متضاد دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔ یہ کارروائیاں ڈیورنڈ لائن کے آرپار جاری کشیدگی کے تناظر میں ہوئی ہیں، جہاں دونوں جانب سے شہری ہلاکتوں کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔