افغانستان میں پاکستانی فضائی کارروائی، ہلاکتوں کے اعدادوشمار پر متضاد دعوے

Fighter jets in formation — illustrative AI image

Written by

in

طالبان حکام کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ حملوں میں 9 شہری جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں ہلاک اور 11 زخمی ہوئے جبکہ تین گھر تباہ ہوئے۔ انہوں نے ان حملوں کو “جارحیت اور جرم” قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔

دوسری جانب پاکستان کی وزارت اطلاعات کے مطابق یہ کارروائیاں “قابل اعتماد انٹیلی جنس” کی بنیاد پر مسلح گروہوں بشمول تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ٹھکانوں کے خلاف کی گئیں۔ اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ کارروائی میں 22 عسکریت پسند ہلاک اور اسلحے و گولہ بارود کے ذخائر تباہ کیے گئے۔

کنڑ سے آنے والی مقامی رپورٹس کے مطابق صوبے کے شلتن ضلع کے چوگام علاقے میں ایک شہری گھر کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ایک غریب چرواہے کے خاندان کے چھ افراد جن میں چار بچے شامل تھے ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ مقامی رہائشی مسافر خان نے بتایا کہ حملہ صبح تقریباً تین بجے ہوا اور مویشی بھی ہلاک ہوئے۔

ڈیلی حیات ان متضاد دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔ یہ کارروائیاں ڈیورنڈ لائن کے آرپار جاری کشیدگی کے تناظر میں ہوئی ہیں، جہاں دونوں جانب سے شہری ہلاکتوں کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *