چین کی بڑی ریفائنری کمپنیوں نے اکتوبر کے لیے ڈیزل، پٹرول اور جیٹ فیول کی زیادہ تر برآمدات معطل کر دی ہیں، کیونکہ بیجنگ گھریلو سپلائی کی سلامتی کو ترجیح دے رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے پہلے سے محدود عالمی ایندھن منڈی سے ایک اور بڑا ذریعہ نکل گیا ہے۔
روسی صدر ولادی میر پوتن نے جمعرات کو ماسکو میں والدائی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ماسکو پر عائد پابندیاں ختم نہیں ہوتیں، روس عالمی توانائی منڈیوں کو اپنا ڈیزل فراہم نہیں کرے گا۔ پوتن نے یہ بھی کہا کہ یوکرین نے روسی آئل ریفائنریوں پر حملوں سے اپنے ‘مقاصد جزوی طور پر حاصل کیے’ اور ان حملوں سے روس کو مجموعی قومی پیداوار کا ایک فیصد نقصان ہوا۔
دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق یوکرین نے صدر ٹرمپ کی مخالفت کے باوجود روسی ریفائنریوں پر حملے جاری رکھے ہیں۔ یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے بتایا کہ کیف نے رات کے دوران روس کے سمارا علاقے میں تیل کی ایک تنصیب کو نشانہ بنایا۔ ٹرمپ نے زیلنسکی سے نجی ٹیلی فونک گفتگو میں ان حملوں کو روکنے کی اپیل کی تھی اور عوامی سطح پر کہا تھا کہ عالمی ایندھن کی قلت کے ذمہ دار یوکرین کے حملے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق برطانیہ اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ ہنگامی ڈیزل ذخائر کے اجراء پر بات چیت کر رہا ہے، کیونکہ ٹرمپ نے امریکا کی طرف سے ایندھن کی سپلائی بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ برطانیہ پہلے سے ہی سردیوں کے موسم سے پہلے توانائی کی فراہمی کے حوالے سے فکر مند ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قلت سے عالمی سطح پر مہنگائی کا دباؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ یورپی ایئر لائنز پہلے ہی پروازوں کی منسوخی میں توسیع کر چکی ہیں۔

Leave a Reply