آزاد کشمیر کی ترقی — بنیادی ڈھانچے سے آگے کی سوچ

View of Muzaffarabad city in Azad Kashmir

Written by

in

آزاد کشمیر قدرتی حسن سے مالا مال خطہ ہے، لیکن اس کی ترقیاتی کہانی ابھی ادھوری ہے۔ ہر سال ترقیاتی بجٹ کا اعلان ہوتا ہے، نئی سڑکوں اور منصوبوں کے وعدے کیے جاتے ہیں، مگر عام شہری کی زندگی میں ٹھوس بہتری کی رفتار سست ہے۔

مسئلہ وسائل کی کمی سے زیادہ ترجیحات کے تعین کا ہے۔ سڑکیں ضرور بنیں، لیکن ان سڑکوں تک پہنچنے والے اسکولوں اور اسپتالوں کی حالت کیا ہے؟ ایک ایسا خطہ جہاں سیاحت کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، وہاں بنیادی سہولتوں کی کمی سیاحوں کو بھی مایوس کرتی ہے اور مقامی آبادی کو بھی۔

تعلیم کے شعبے میں آزاد کشمیر کی شرح خواندگی دیگر خطوں سے بہتر بتائی جاتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ تعلیم روزگار سے کتنی جڑی ہے؟ ہزاروں نوجوان ڈگریاں لے کر بیروزگاری کا شکار ہیں۔ تعلیم اور مارکیٹ کی ضروریات کے درمیان فاصلہ کم کیے بغیر ترقی کا دعویٰ ادھورا رہے گا۔

صحت کا شعبہ بھی توجہ کا متقاضی ہے۔ دور دراز علاقوں میں بنیادی طبی سہولتوں کی کمی کی وجہ سے مریضوں کو بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ ٹیلی میڈیسن اور موبائل ہیلتھ یونٹس جیسے جدید ذرائع سے اس خلا کو کم کیا جا سکتا ہے۔

سیاحت آزاد کشمیر کی معیشت کا سب سے بڑا قدرتی اثاثہ ہے۔ وادی نیلم، راولاکوٹ اور دیگر علاقے ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ سکتے ہیں، بشرطیکہ انفراسٹرکچر، صفائی اور سیاحوں کی حفاظت کا باقاعدہ نظام قائم کیا جائے۔ مقامی کمیونٹی کو سیاحت سے براہ راست فائدہ پہنچانے کے ماڈل بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔

ایک اور اہم نکتہ مقامی حکومتوں کا مضبوط نظام ہے۔ ترقیاتی فیصلے جب مقامی سطح پر عوام کی شمولیت سے ہوتے ہیں تو ان کے نتائج بھی بہتر ہوتے ہیں۔ بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنائے بغیر ترقی کا عمل مرکزیت کا شکار رہے گا۔

آخر میں، آزاد کشمیر کی ترقی کا پیمانہ عمارتوں کی تعداد نہیں، بلکہ عام شہری کے معیار زندگی میں بہتری ہونا چاہیے۔ پائیدار ترقی کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی، شفافیت اور احتساب ناگزیر ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو خطے کو اس کی صلاحیتوں کے مطابق مقام دلا سکتا ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *