پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی 2026 کی مہم کے دوران تقریباً دس لاکھ بچے ویکسینیشن سے محروم رہ گئے۔ حکام کے مطابق خیبرپختونخوا میں ایک لاکھ 84 ہزار بچوں تک رسائی نہیں ہو سکی، جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں برفباری اور مہم نہ چلنے کے باعث تقریباً 50 ہزار بچے ویکسین سے محروم رہے۔
مہم کے دوران پنجاب میں دو کروڑ 29 لاکھ سے زائد، سندھ میں ایک کروڑ 5 لاکھ سے زائد، خیبرپختونخوا میں 71 لاکھ 30 ہزار سے زائد اور بلوچستان میں 23 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے۔ اسلام آباد میں چار لاکھ 55 ہزار سے زائد، گلگت بلتستان میں تقریباً دو لاکھ 61 ہزار اور آزاد کشمیر میں چھ لاکھ 73 ہزار سے زائد بچوں کو ویکسین دی گئی۔
سیکیورٹی خدشات کے باعث بلوچستان کے مستونگ، گوادر، چاغی اور آواران اضلاع میں مہم ملتوی کر دی گئی۔ حکام کے مطابق ہدف بنائے گئے بچوں میں سے 0.14 فیصد نے قطرے پلانے سے انکار کیا، جن میں کراچی سے 31 ہزار انکار سب سے زیادہ تھے۔
مہم کے دوران خیبرپختونخوا کے علاقے نظام پور کے کاہی میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس کانسٹیبل مقصود (35) کو نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر شہید کر دیا۔ اس وقت خواتین ہیلتھ ورکرز ایک گھر کے اندر بچوں کو پولیو کے قطرے پلا رہی تھیں۔
پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس تاحال پایا جاتا ہے۔ صحت حکام والدین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں تاکہ اس موذی مرض کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔

Leave a Reply