میرپور: کشمیر پریمیئر لیگ فٹ بال 2026 کا آغاز، چھ ٹیمیں ‘ون کشمیر، ون پیشن’ کے نعرے کے ساتھ میدان میں

A symbolic golden trophy above a stadium field with floodlights and fluttering banners, with mountain silhouettes in the background, representing the football tournament festival.

Written by

in

میرپور میں کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) فٹ بال 2026 کا انعقاد جاری ہے، جو 8 سے 10 اکتوبر تک مسلم ہینڈز آسٹرو ٹرف اکیڈمی میں منعقد ہو رہی ہے۔ اس ٹورنامنٹ کا اہتمام میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (مسٹ) کر رہی ہے، اور اس میں ریاست جموں و کشمیر کے مختلف حصوں کے نام سے چھ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

ٹورنامنٹ میں میرپور وارئیرز، مظفرآباد ٹائٹنز، پونچھ چیمپئنز، لداخ لیجنڈز، سری نگر اسٹرائیکرز اور جموں چیلنجرز شامل ہیں۔ میچز سنگل راؤنڈ رابن بنیاد پر کھیلے جا رہے ہیں۔ ٹورنامنٹ کا نعرہ ‘ون کشمیر، ون پیشن، ون گیم’ جبکہ سرکاری ترانے کا عنوان ‘ون کشمیر، ون ڈریم’ ہے۔

مسٹ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر انور خطاب کے مطابق اس ٹورنامنٹ کا مقصد نوجوان فٹ بالرز کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دینا اور مختلف علاقوں کے لوگوں میں باہمی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیل نوجوانوں میں نظم و ضبط، ٹیم ورک اور قیادت کی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتے ہیں اور ان کی شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ڈاکٹر انور خطاب نے کہا کہ مختلف علاقوں کے کھلاڑیوں، عہدیداروں اور تماشائیوں کی شرکت سے میرپور میں سماجی اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔ ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ، بازاروں اور ریستورانوں سمیت مختلف شعبوں میں کاروبار کو فائدہ پہنچے گا۔

صاف پانی اور ماحول کا پیغام

وائس چانسلر کے مطابق اس ٹورنامنٹ کے ذریعے صاف پانی، صاف ماحول اور ٹھوس کچرے کے انتظام سے متعلق پیغامات بھی اجاگر کیے جا رہے ہیں۔ انھوں نے مسلم ہینڈز کی فلاحی منصوبوں میں تعاون کو بھی سراہا، جن میں فلڈ لائٹس اور پانی کی فلٹریشن پلانٹس شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پسماندہ بچوں کو کھیلوں میں مواقع اور سہولتیں فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ باصلاحیت نوجوان وسائل کی کمی کے باعث اپنی صلاحیتوں سے محروم نہ رہ جائیں۔

مقامی حلقوں کے مطابق ٹورنامنٹ کے انعقاد سے میرپور میں فٹ بال کے شائقین میں زبردست جوش و خروش پایا جا رہا ہے، اور تماشائیوں کی بڑی تعداد میچز دیکھنے کے لیے اکیڈمی کا رخ کر رہی ہے۔ منتظمین کے مطابق یہ ایونٹ مختلف شہروں اور علاقوں کے لوگوں کے درمیان تعلیمی، ثقافتی، سماجی اور تجارتی تعاون کے مستقل روابط قائم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *