فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) مصنوعی ذہانت کی مدد سے ٹیکس گوشواروں کی جانچ کا دائرہ وسیع کرنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ ظاہر نہ کی گئی آمدن اور اثاثوں کا سراغ لگایا جا سکے۔ ایک سینئر عہدیدار نے عرب نیوز کو بتایا کہ یہ اقدام آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ معاشی اصلاحات کے تحت محصولات بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
پاکستان کو معاشی سرگرمیوں کو ٹیکس نظام میں لانے میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث ٹیکس دہندگان کی تعداد محدود ہے اور قرضے کے بغیر عوامی خدمات کی مالی معاونت کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ مضبوط ٹیکس وصولی آئی ایم ایف سے کیے گئے اصلاحاتی وعدوں کا مرکزی ہدف ہے۔
منصوبے کے تحت ایف بی آر گوشواروں میں دی گئی معلومات کا جائیداد، بینکنگ، گاڑیوں اور دیگر ریکارڈ سے موازنہ کرے گا۔ محدود تعداد میں انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس گوشواروں پر تجرباتی مرحلے کے بعد ان ماڈلز کو جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال کے انکم ٹیکس گوشواروں اور اس کے بعد کے سیلز ٹیکس گوشواروں پر لاگو کیا جائے گا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے سینئر عہدیدار نے کہا کہ اس نظام کے بعد چھپنے کی کوئی جگہ نہیں رہے گی۔ ان کے بقول یہ نظام تھکتا نہیں اور کوئی سطر نظر انداز نہیں کرتا۔ ایف بی آر کی اس سال کی مہم کا نعرہ ”ایف بی آر سب جانتا ہے“ ہے، اور ان کے مطابق اس نظام کے ساتھ یہ محض نعرہ نہیں رہے گا۔
حکام کے مطابق یہ ماڈل گوشواروں کی ٹیکس قوانین کے تقاضوں سے مطابقت جانچیں گے، اسی نوعیت کے دیگر ٹیکس دہندگان کے گوشواروں سے موازنہ کریں گے اور دیگر ذرائع سے حاصل معلومات سے عدم مطابقت کی نشاندہی کریں گے۔ کسی عدم مطابقت کی صورت میں جانچ ضروری ہوگی، تاہم صرف نظام کی نشاندہی سے دھوکہ دہی ثابت نہیں ہوگی۔
عہدیدار نے وضاحت کی کہ مصنوعی ذہانت کی نشاندہی والے گوشواروں کو آڈٹ کے لیے منتخب کیا جا سکتا ہے، ان پر اسسمنٹ کی کارروائی ہو سکتی ہے یا ٹیکس دہندگان کو گوشوارے درست کرنے کی ہدایت جاری کی جا سکتی ہے۔

Leave a Reply