راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھارتی فوج کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ بڈگام میں مارے جانے والے شخص کا تعلق پاکستان سے تھا۔ یکم اکتوبر کو پریس کانفرنس میں انہوں نے ریٹائرڈ حوالدار محمد آصف کو زندہ پیش کرتے ہوئے بھارتی دعوے کو “فالس فلیگ” قرار دیا۔
بھارتی فوج کے چنار کور کے مطابق 29 اور 30 ستمبر کی درمیانی شب بڈگام ضلع کے یوسمرگ کے کوراگ علاقے میں فوج، پولیس اور سی آر پی ایف کے مشترکہ آپریشن میں ایک مسلح شخص ہلاک ہوا تھا، جس کی شناخت “محمد آصف عرف ہاشم موسٰی” کے طور پر کی گئی تھی اور اسے لشکر طیبہ کا کمانڈر بتایا گیا تھا۔
پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے محمد آصف نے بتایا کہ انہوں نے 2000 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی، 2005 میں اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) میں گئے اور 2023 میں ریٹائر ہو کر اپنے خاندان کے ساتھ راولپنڈی میں رہائش پذیر ہیں۔ بھارتی حکام کا دعویٰ تھا کہ وہ سابق صدر پرویز مشرف کے سیکیورٹی دستے میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور گزشتہ تین برسوں میں متعدد حملوں میں ملوث تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی دعوے کو حقائق کے برعکس قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ پیش کیا گیا شخص زندہ اور موجود ہے۔ رپورٹس کے مطابق اشاعت کے وقت تک بھارت کی جانب سے اس پریس کانفرنس کا کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا تھا۔
یہ معاملہ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے، جہاں فوجی ذرائع کے دعووں کی آزادانہ تصدیق عام طور پر ممکن نہیں ہوتی۔

Leave a Reply