پاکستان نے 29 ستمبر 2026 کو مدینہ منورہ میں طیبہ بجلی تقسیم اسٹیشن پر حوثی ملیشیا کے حملے کی سخت مذمت کی ہے۔ دفترِ خارجہ نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ یہ حملہ مسجدِ نبوی کو بجلی فراہم کرنے والی سویلین تنصیب پر کیا گیا، جو لاکھوں مسلمانوں کے لیے گہری تشویش اور دکھ کا باعث ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ سفیر سجاد حیدر خان نے کہا کہ ‘مسجدِ نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے سویلین انفراسٹرکچر پر یہ قابلِ مذمت حملہ ایک سنگین اشتعال انگیزی ہے’، اور دونوں مقدس مساجد کی حرمت اور زائرین کی سلامتی کا احترام ہر صورت میں ضروری ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ‘اس طرح کے لاپرواہ اقدامات کے فوری اور غیر مشروط خاتمے’ کا مطالبہ کرتا ہے، کیونکہ یہ علاقائی امن و سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے مملکت کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔
یمن میں سعودی زیرِ قیادت اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق یہ حملہ 29 ستمبر کو صبح 5:11 بجے ڈرون کے ذریعے کیا گیا۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ ڈرون کے ملبے سمیت شواہد سے حوثیوں کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی، تاہم حوثی ذرائع نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے۔
قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، ترکیہ اور کویت نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب سے اظہارِ یکجہتی کیا اور دشمنی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔

Leave a Reply