پاکستان کی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی جدت، عوامی آگاہی، محفوظ نظام اور بین الاقوامی تعاون پر مرکوز ہے۔ پالیسی کے تحت 2030 تک تقریباً 278 ارب روپے (ایک ارب ڈالر) کی سرمایہ کاری، دس لاکھ اے آئی ماہرین اور دس ہزار اے آئی تربیت کار تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
کانفرنس میں عالمی اے آئی گورننس پر اعلیٰ سطحی اجلاس بھی ہوگا جس میں اقوام متحدہ کی قیادت اور دیگر بین الاقوامی شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔ بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بڑی حد تک غیر حاضر رہیں گی۔
کانفرنس کا ایجنڈا اے آئی کے فرق کو کم کرنے، اے آئی ٹیکنالوجیز تک منصفانہ رسائی بڑھانے اور اس بات کو یقینی بنانے پر مرکوز ہوگا کہ اے آئی کے فوائد پائیدار ترقی میں معاون ہوں۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں تاجکستان کے مشن کے ساتھ مل کر اے آئی پر اعلیٰ سطحی بحث کی میزبانی بھی کی ہے، جس میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور اے آئی پر مبنی ترقی کے منصوبوں کو اجاگر کیا گیا۔









