اسلام آباد: حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وفود نے جمعہ کو اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے چیمبر میں مذاکرات کا آغاز کر دیا۔ یہ مذاکرات پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب اعلان کردہ لانگ مارچ سے قبل ہو رہے ہیں۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے جمعرات کو تصدیق کی تھی کہ ان کی جماعت نے حکومت کی مذاکرات کی دعوت قبول کر لی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے بدھ کو ملاقات کا پیغام موصول ہوا تھا جسے اپوزیشن رہنماؤں کے اجلاس میں ہونے والے فیصلے کی روشنی میں قبول کیا گیا۔
اپوزیشن کے چھ رکنی وفد میں بیرسٹر گوہر علی خان، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ، عامر ڈوگر اور حلیم عادل شیخ شامل ہیں۔ حکومتی وفد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور پیپلز پارٹی کی شیری رحمان سمیت دیگر رہنما شامل ہیں۔
اجلاس کے دوران وزیر داخلہ نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ پی ٹی آئی نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے انکار کے بعد اپنا وفد ازسرنو تشکیل دیا تھا، کیونکہ اچکزئی غیر جانبدار مقام پر مذاکرات چاہتے تھے۔
پی ٹی آئی نے اپنا لانگ مارچ 27 ستمبر سے بڑھا کر 4 اکتوبر تک ملتوی کیا تھا۔ جماعت کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد بانی چیئرمین کی رہائی اور آئینی بالادستی کی بحالی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے اس سے قبل “آف دی ریکارڈ” مذاکرات کی تصدیق کی تھی۔
یاد رہے کہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان جمعرات کو ایوان صدر میں ہونے والی ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر غور کیا گیا تھا، جس کے بعد مذاکرات کا فیصلہ ہوا۔

Leave a Reply