وزارت قومی صحت خدمات نے ڈینگی کے پھیلاؤ کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر فوری ایڈوائزری جاری کی ہے۔ بھاری بارشوں اور وائرس کے لیے سازگار موسمی حالات کے باعث حکام نے شہریوں اور متعلقہ اداروں کو احتیاطی تدابیر پر فوری عمل کا کہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں ڈینگی کے مثبت کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 9 ستمبر سے 2 اکتوبر کے دوران کیسز کی تعداد 111 سے بڑھ کر 1404 تک پہنچ گئی، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اسلام آباد ڈاکٹر زعیم ضیا کے مطابق ڈینگی کے لاروا کی افزائش کے زیادہ تر مقامات گھروں، زیر تعمیر عمارتوں اور عوامی مقامات پر قائم ہیں۔ ان کے مطابق ڈی ایچ او کی ٹیموں نے انڈور ریزیڈوئل اسپرے (آئی آر ایس) سمیت بھرپور صفائی مہم چلائی ہے اور آگاہی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔
صحت حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ مچھروں کے کاٹنے سے بچنے کے لیے پوری آستین والے کپڑے پہنیں اور مچھر بھگاؤ ادویات استعمال کریں۔ غروب آفتاب کے بعد باہر نکلنے سے گریز کریں اور کھڑے پانی، کٹی نہ ہوئی گھاس اور کوڑے کے ڈھیروں والی جگہوں سے دور رہیں۔
حکام نے خود علاج کے بجائے طبی مشورے پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اپنے علاقے میں ڈینگی اسپرے کے لیے فیلڈ مانیٹرنگ ٹیموں سے رابطہ کریں۔ طبی سہولیات کو ڈینگی سے متعلق کیسز کے لیے خصوصی کاؤنٹر مختص کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ڈینگی کی علامات میں تیز بخار، شدید سر درد، جوڑوں اور پٹھوں میں درد، جلد پر دھبے اور آنکھوں میں درد شامل ہیں۔ این آئی ایچ کی رہنمائی کے مطابق بخار کے لیے صرف پیراسیٹامول استعمال کریں اور اسپرین و دیگر درد کش ادویات (این ایس اے آئی ڈیز) سے گریز کریں کیونکہ ان سے خون بہنے کا خطرہ بڑھتا ہے۔ پلیٹلیٹس کی تعداد 10 ہزار سے کم ہونے پر فوری اسپتال داخلہ ضروری ہے۔

Leave a Reply