Tag: نوجوان

  • میرپور: کے پی ایل فٹبال ٹورنامنٹ کا انعقاد

    میرپور: کے پی ایل فٹبال ٹورنامنٹ کا انعقاد

    کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) کے زیراہتمام فٹبال ٹورنامنٹ آٹھ سے دس اکتوبر تک میرپور میں منعقد ہوا۔ یہ ٹورنامنٹ میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (مست) کے زیراہتمام، مسلم ہینڈز اور محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل کالج کے اشتراک سے مسلم ہینڈز آسٹرو ٹرف اکیڈمی میں کھیلا گیا۔ ٹورنامنٹ کا نعرہ ‘ون کشمیر، ون پیشن، ون گیم’ تھا۔

    ٹورنامنٹ میں ریاست جموں و کشمیر کے مختلف حصوں کے ناموں سے منسوب چھ ٹیموں نے حصہ لیا، جن میں میرپور واریرز، مظفرآباد ٹائٹنز، پونچھ چیمپئنز، لداخ لیجنڈز، سرینگر اسٹرائیکرز اور جموں چیلنجرز شامل تھیں۔ یہ مقابلے سنگل راؤنڈ رابن فارمیٹ میں کھیلے گئے، جس سے ہر ٹیم کو متعدد میچ کھیلنے کے مواقع ملے۔

    اس موقع پر مست میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر انور خٹاب نے کہا کہ اس طرح کے ایونٹس نوجوان فٹبالرز کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں اور مختلف علاقوں کے لوگوں کے درمیان رابطے کو فروغ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیل نوجوانوں میں نظم و ضبط، رواداری، ٹیم ورک اور قیادت کی صلاحیتیں پیدا کرتے ہیں اور ان کی شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    ڈاکٹر انور خٹاب نے کہا کہ کھیل نہ صرف نوجوانوں کی جسمانی صحت کے لیے اہم ہیں بلکہ ان کی مجموعی شخصیت کی نشوونما میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف علاقوں سے کھلاڑیوں، عہدیداروں اور تماشائیوں کی آمد سے میرپور میں معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملتا ہے، جس سے ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ، بازاروں اور ریستورانوں سمیت دیگر کاروبار مستفید ہوتے ہیں۔

    ٹورنامنٹ کے دوران صاف پانی، صاف ماحول اور ٹھوس فضلہ کے انتظام سے متعلق پیغامات بھی عام کیے گئے۔ وائس چانسلر نے فلاحی منصوبوں، جن میں فلڈ لائٹس اور واٹر فلٹریشن پلانٹس شامل ہیں، میں مسلم ہینڈز کے تعاون کو سراہا۔ انہوں نے زور دیا کہ محروم طبقے کے بچوں کو کھیلوں میں مواقع اور تعاون فراہم کیا جائے تاکہ وسائل کی کمی کے باعث باصلاحیت نوجوانوں کا ہنر ضائع نہ ہو۔

    منتظمین نے ٹورنامنٹ کا آفیشل ترانہ بھی جاری کیا جس کا عنوان ‘ون کشمیر، ون ڈریم’ تھا۔ منتظمین کے مطابق ‘ون کشمیر، ون پیشن، ون گیم’ کے نظریے کا مقصد فٹبال کے ذریعے اتحاد، بھائی چارے اور مشترکہ جوش کا پیغام دینا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے کھیلوں کے ایونٹس باصلاحیت نوجوان فٹبالرز کو اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع دیتے ہیں اور نوجوان نسل کو کھیلوں میں فعال شرکت کی ترغیب دیتے ہیں۔

    پریس کانفرنس میں ڈویژنل ہیڈکوارٹر ٹیچنگ ہسپتال میرپور کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، صدر کشمیر پریس کلب میرپور، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے معروف صحافی، سماجی شخصیات اور مست کے انتظامی عہدیداروں سمیت بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی۔

  • ڈڈیال میں نوجوان جاں بحق، میرپور ڈویژن میں غیر معینہ ہڑتال

    ڈڈیال میں نوجوان جاں بحق، میرپور ڈویژن میں غیر معینہ ہڑتال

    ڈڈیال: ڈڈیال میں ایک نوجوان کے جاں بحق ہونے کی اطلاع کے بعد میرپور ڈویژن میں غیر معینہ ہڑتال جاری ہے، جبکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) نے تینوں ڈویژنوں میں غیر معینہ مدت کے لیے مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔

    کمیٹی کے رکن سردار عمر نذیر کشمیری نے عوام سے اپیل کی ہے کہ احتجاج کو کامیاب بنایا جائے اور مطالبات پورے ہونے تک کاروبار بند رکھے جائیں اور سڑکوں سے دور رہا جائے۔

    جے اے اے سی کا الزام ہے کہ ڈڈیال میں رات اور اتوار کی صبح سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے چودھری عثمان نامی نوجوان جاں بحق اور دو دیگر زخمی ہوئے۔ کمیٹی کے مطابق مقامی افراد نے نوجوان کی لاش سیکیورٹی فورسز سے حاصل کی جبکہ زخمیوں کو بعد میں اسپتال سے حراست میں لے لیا گیا۔ تاہم فائرنگ کے واقعے کے حالات اور ہلاکتوں کی تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، اور رپورٹ لکھے جانے تک حکام نے ڈڈیال واقعے کا تفصیلی بیان جاری نہیں کیا تھا۔

    دوسری جانب کوٹلی ضلع میں پولیس نے تصدیق کی کہ چارہوئی کے قریب کالا ڈب کے مقام پر بدامنی کے دوران کانسٹیبل عبدالرؤف گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا۔ پولیس کے مطابق مظاہرین نے سڑک بلاک کر رکھی تھی اور جب پولیس پارٹی راستہ کھولنے پہنچی تو اس کے اہلکاروں پر براہ راست فائرنگ کی گئی، جس سے رؤف کے سینے میں گولی لگی۔

    مختلف علاقوں سے احتجاج، سڑکوں کی بندش اور جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ حکام کی جانب سے تاحال صورتحال پر کوئی جامع سرکاری موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

    واضح رہے کہ حکومت اور جے اے اے سی کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی ایک بار پھر تشدد میں بدل گئی ہے۔ کمیٹی کے مطالبات میں آزاد کشمیر میں ٹیکسوں میں ریلیف، آٹے اور بجلی پر سبسڈی اور دیگر عوامی مسائل شامل ہیں۔

    مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈڈیال واقعے کی شفاف تحقیقات ناگزیر ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور پرامن ذرائع سے مسائل کے حل پر زور دیا ہے۔

    دریں اثنا، میرپور ڈویژن کے مختلف شہروں میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور ٹریفک کی روانی میں خلل کی اطلاعات ہیں۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف مصدقہ اطلاعات پر توجہ دیں۔