Tag: میرپور

  • میرپور: KORT کے 21 سال مکمل، جاتلاں میں ساڑھے 12 ارب روپے سے جدید ہسپتال کا اعلان

    میرپور: KORT کے 21 سال مکمل، جاتلاں میں ساڑھے 12 ارب روپے سے جدید ہسپتال کا اعلان

    میرپور: کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ (KORT) کے قیام کے 21 سال مکمل ہونے پر جاتلاں روڈ پر واقع کورٹ کمپلیکس میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ادارے کی دو دہائیوں پر محیط رفاہی، تعلیمی اور انسان دوست خدمات کو سراہا گیا۔

    تقریب کے مہمانِ خصوصی سابق ایڈوائزر ٹو ڈونلڈ ٹرمپ، معروف امریکی کمیونٹی رہنما اور امریکہ میں KORT کے پہلے ایمبیسڈر ساجد تارڑ تھے۔ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے لیے پاکستان کونسل فار سوشل ویلفیئر اینڈ ہیومن رائٹس کے مستقل مندوب سردار ظریف خان اور معروف کاروباری و سماجی شخصیت اکرم بٹ بھی امریکہ سے خصوصی طور پر شریک ہوئے۔

    تقریب میں KORT کے بانی و منتظمِ اعلیٰ چوہدری محمد اختر، سابق چیف جسٹس آزاد کشمیر جسٹس (ر) اعظم خان، کمشنر میرپور ڈویژن راجہ طاہر ممتاز خان، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن راجہ فیاض حیدر نوابی، ڈپٹی کمشنر میرپور سید عمران عباس نقوی، ایس ایس پی میرپور خرم اقبال، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدور راجہ محمد زبیر خان اور نجم الحسن جاوید ایڈووکیٹ، کمانڈنگ آفیسر ایس سی او، وکلا، کونسلرز، بلدیاتی نمائندے، سماجی کارکن، سینئر صحافی، مخیر حضرات، رضاکار، اساتذہ، KORT کے طلبہ و طالبات اور شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

    تقریب میں KORT کے بچوں نے رنگا رنگ اور سبق آموز پروگرام پیش کیے جن میں ٹیبلو، لوک گیت اور ثقافتی پرفارمنس کے ذریعے انسانیت کی خدمت، تعلیم کی اہمیت، صحت کی سہولیات، بنیادی انسانی حقوق، مساوات، ہمدردی اور بھائی چارے کے پیغامات کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا۔ پروگراموں میں کشمیری ثقافت و روایات اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد و قربانیوں کو بھی نمایاں کیا گیا۔ بچوں کی پُراعتماد کارکردگی کو شرکاء نے سراہا۔

    ساڑھے 12 ارب روپے کے جدید ہسپتال کا اعلان

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری محمد اختر نے کہا کہ 8 اکتوبر 2005 کا قیامت خیز دن آج بھی قلب و ذہن پر نقش ہے، جب آباد گھر اجڑ گئے، ماؤں کی گودیں ویران ہوئیں اور بے شمار معصوم بچے والدین کی شفقت سے محروم ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ KORT کا سفر کسی ذاتی مفاد یا تشہیر کے لیے نہیں بلکہ دردِ دل اور خدمتِ انسانیت کے جذبے سے شروع کیا گیا تھا، اور بنیادی عزم یہ تھا کہ زلزلے کے یتیم بچوں کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا۔

    انہوں نے KORT کے زیرِ اہتمام جاتلاں میں زیرِ تعمیر جدید ہسپتال کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے پر تقریباً ساڑھے 12 ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کی جائے گی۔ یہ منصوبہ دکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنے اور محروم و نادار طبقات کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کی عملی کاوش ہے، تاکہ وسائل کی کمی کے باعث کسی ضرورت مند کو علاج کے حصول میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے ادارے کے ساتھ تعاون کرنے والے اہلِ خیر، مخیر حضرات، رضاکاروں، اساتذہ اور بالخصوص بیرونِ ملک مقیم پاکستانی و کشمیری برادری کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    مہمانِ خصوصی ساجد تارڑ نے KORT کی 21 سالہ جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے نے کشمیر کے لوگوں کو ناقابلِ فراموش صدمے سے دوچار کیا، تاہم اس سانحے کے بعد خدمت، اخوت اور ایثار کے جذبے نے بھی جنم لیا، جس نے بے شمار یتیم بچوں کی زندگیوں میں امید کی کرن پیدا کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یتیم بچوں کو تعلیم، تربیت اور عزتِ نفس کے ساتھ معاشرے کا باوقار فرد بنانا محض امداد نہیں بلکہ نسلوں کی تعمیر کا عمل ہے، اور امریکہ میں مقیم پاکستانی و کشمیری کمیونٹی KORT کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔

    دیگر مقررین نے کہا کہ KORT نے اپنی خدمات کو وقتی امداد تک محدود رکھنے کے بجائے یتیم اور مستحق بچوں کی مستقل کفالت، تعلیم، صحت، رہائش اور تربیت کو اپنا نصب العین بنایا ہے۔ تقریب کے اختتام پر سانحۂ زلزلہ 2005 کے شہداء کے ایصالِ ثواب اور درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی گئی، جبکہ شرکاء نے خدمتِ خلق اور کفالتِ ایتام کا سفر جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

  • میرپور: کشمیر پریمیئر لیگ فٹ بال 2026 کا آغاز، چھ ٹیمیں ‘ون کشمیر، ون پیشن’ کے نعرے کے ساتھ میدان میں

    میرپور: کشمیر پریمیئر لیگ فٹ بال 2026 کا آغاز، چھ ٹیمیں ‘ون کشمیر، ون پیشن’ کے نعرے کے ساتھ میدان میں

    میرپور میں کشمیر پریمیئر لیگ (کے پی ایل) فٹ بال 2026 کا انعقاد جاری ہے، جو 8 سے 10 اکتوبر تک مسلم ہینڈز آسٹرو ٹرف اکیڈمی میں منعقد ہو رہی ہے۔ اس ٹورنامنٹ کا اہتمام میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (مسٹ) کر رہی ہے، اور اس میں ریاست جموں و کشمیر کے مختلف حصوں کے نام سے چھ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

    ٹورنامنٹ میں میرپور وارئیرز، مظفرآباد ٹائٹنز، پونچھ چیمپئنز، لداخ لیجنڈز، سری نگر اسٹرائیکرز اور جموں چیلنجرز شامل ہیں۔ میچز سنگل راؤنڈ رابن بنیاد پر کھیلے جا رہے ہیں۔ ٹورنامنٹ کا نعرہ ‘ون کشمیر، ون پیشن، ون گیم’ جبکہ سرکاری ترانے کا عنوان ‘ون کشمیر، ون ڈریم’ ہے۔

    مسٹ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر انور خطاب کے مطابق اس ٹورنامنٹ کا مقصد نوجوان فٹ بالرز کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دینا اور مختلف علاقوں کے لوگوں میں باہمی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیل نوجوانوں میں نظم و ضبط، ٹیم ورک اور قیادت کی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتے ہیں اور ان کی شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    ڈاکٹر انور خطاب نے کہا کہ مختلف علاقوں کے کھلاڑیوں، عہدیداروں اور تماشائیوں کی شرکت سے میرپور میں سماجی اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔ ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ، بازاروں اور ریستورانوں سمیت مختلف شعبوں میں کاروبار کو فائدہ پہنچے گا۔

    صاف پانی اور ماحول کا پیغام

    وائس چانسلر کے مطابق اس ٹورنامنٹ کے ذریعے صاف پانی، صاف ماحول اور ٹھوس کچرے کے انتظام سے متعلق پیغامات بھی اجاگر کیے جا رہے ہیں۔ انھوں نے مسلم ہینڈز کی فلاحی منصوبوں میں تعاون کو بھی سراہا، جن میں فلڈ لائٹس اور پانی کی فلٹریشن پلانٹس شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پسماندہ بچوں کو کھیلوں میں مواقع اور سہولتیں فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ باصلاحیت نوجوان وسائل کی کمی کے باعث اپنی صلاحیتوں سے محروم نہ رہ جائیں۔

    مقامی حلقوں کے مطابق ٹورنامنٹ کے انعقاد سے میرپور میں فٹ بال کے شائقین میں زبردست جوش و خروش پایا جا رہا ہے، اور تماشائیوں کی بڑی تعداد میچز دیکھنے کے لیے اکیڈمی کا رخ کر رہی ہے۔ منتظمین کے مطابق یہ ایونٹ مختلف شہروں اور علاقوں کے لوگوں کے درمیان تعلیمی، ثقافتی، سماجی اور تجارتی تعاون کے مستقل روابط قائم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

  • میرپور: شادی کا جھانسہ دے کر لڑکیوں کی بیرون ملک اسمگلنگ میں ملوث خاتون گرفتار

    میرپور: شادی کا جھانسہ دے کر لڑکیوں کی بیرون ملک اسمگلنگ میں ملوث خاتون گرفتار

    میرپور: آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں پولیس نے انسانی اسمگلنگ کے ایک مبینہ گروہ سے تعلق رکھنے والی خاتون کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمہ پر الزام ہے کہ وہ شادی کا جھانسہ دے کر لڑکیوں کو بیرون ملک لے جا کر فروخت کرنے میں ملوث تھی۔ متاثرہ خاندان کی درخواست پر ملزمہ کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق گرفتار خاتون پاکستانی نژاد فرانسیسی شہری ہے اور اس کا تعلق پنجاب کے ضلع جہلم سے ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ مبینہ طور پر لڑکے کا بھیس بدل کر پاکستان آتی، نکاح کرتی اور پھر دلہن کو بیرون ملک لے جا کر فروخت کر دیتی تھی۔

    متاثرہ لڑکی کے والد چوہدری رمضان کے مطابق ملزمہ نے اپنی اصل شناخت چھپا رکھی تھی اور ایک مرد کے نام سے اپنی پہچان بنا رکھی تھی۔ نکاح کے بعد بیٹی کا ویزا لگوا کر اسے دبئی کے راستے فرانس بھیجا گیا۔ والد کے بقول فرانس پہنچنے کے بعد خاندان کو معلوم ہوا کہ بیٹی کی شادی ایک خاتون سے ہوئی ہے۔

    چوہدری رمضان کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی پر اس گروہ نے تشدد کیا اور اسے کئی مقامات پر فروخت کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے مطابق فرانس میں بڑی مشکل سے بیٹی کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

    والد نے بتایا کہ ملزمہ کچھ عرصے بعد دوبارہ پاکستان آئی اور نیا رشتہ تلاش کرنے لگی تو انہوں نے پولیس کو اطلاع دے کر اسے گرفتار کرا لیا۔ چوہدری رمضان نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی بیٹی کو واپس پاکستان لایا جائے، انہیں انصاف دلایا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی اور خاندان کی بیٹی کے ساتھ ایسا سلوک نہ ہو۔

    پولیس حکام کے مطابق ملزمہ کو خواتین حوالات میں رکھا گیا ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کے تمام پہلوؤں کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے، اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • میرپور کے سرکاری صحت مراکز کا جائزہ، مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج کی ہدایت

    میرپور کے سرکاری صحت مراکز کا جائزہ، مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج کی ہدایت

    میرپور: آزاد جموں و کشمیر کے وزیر صحت ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر نے میرپور میں سرکاری صحت مراکز کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے افسران کو ہدایت کی ہے کہ عوام کو بروقت اور معیاری صحت کی سہولتیں فراہم کی جائیں اور بنیادی صحت کے مراکز کو مزید فعال بنایا جائے۔

    وزیر صحت نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس میرپور کا دورہ کیا، جہاں ان کے ہمراہ وزیر جنگلات کرنل (ریٹائرڈ) وقار احمد نور، قانون ساز اسمبلی کے ارکان چوہدری رخسار احمد اور چوہدری محمد رزاق کے علاوہ سابق وزیر اور کشمیر کونسل کے رکن چوہدری سعید بھی موجود تھے۔ صحت کے افسران نے وفد کو محکمے کی دستیاب سہولتوں، درپیش چیلنجز اور آئندہ ترجیحات کے بارے میں بریفنگ دی۔

    بعد ازاں ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس میں ضلع کے طبی اداروں کے سربراہان کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں صحت کی سہولتوں، اداروں کی کارکردگی، مریضوں کو معیاری علاج کی فراہمی اور بنیادی صحت خدمات کی بروقت رسائی میں رکاوٹوں کا جائزہ لیا گیا، ساتھ ہی ان مسائل کے حل کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

    وزیر صحت نے افسران کو ہدایت کی کہ دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے سرکاری صحت مراکز میں بنیادی سہولتوں، ادویات اور طبی عملے کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔ ان کے بقول، حکومت صحت اور تعلیم کو اولین ترجیحات میں شمار کرتی ہے، اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم افتخار گیلانی کی قیادت میں عوامی شکایات کے ازالے اور صحت خدمات کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر نے خبردار کیا کہ صحت کی خدمات کی فراہمی میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ اداروں کے مسائل کی نشاندہی کی جائے اور ان کے عملی حل کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔ ان کے بقول، ہر شہری کو معیاری علاج کی سہولت اس کے دروازے تک پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

    وزیر صحت نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کے احاطے میں ایک پودا بھی لگایا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر میرپور ڈاکٹر فدا حسین راجہ، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈویژنل ہیڈکوارٹر ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر راجہ اعجاز احمد اور محکمہ صحت کے دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔

  • میرپور: اسٹیٹ کالج آف نرسنگ میں بی ایس سی نرسنگ داخلوں کا اعلان

    میرپور: اسٹیٹ کالج آف نرسنگ میں بی ایس سی نرسنگ داخلوں کا اعلان

    میرپور: حکومت آزاد جموں و کشمیر نے تعلیمی سیشن 2026-27 کے لیے نرسنگ پروگراموں میں داخلوں کا اعلان کر دیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق بی ایس سی جنرک نرسنگ پروگرام کے لیے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔

    داخلہ نوٹس میں پوسٹ آر این بی ایس سی نرسنگ اور ایک سالہ پوسٹ بیسک ڈپلومہ پروگرام بھی شامل ہیں۔ داخلے اسٹیٹ کالج آف نرسنگ میرپور میں دیے جائیں گے، جو آزاد کشمیر میں نرسنگ کی تعلیم کا اہم ادارہ ہے۔

    اہلیت اور اہم تاریخیں

    بی ایس سی جنرک نرسنگ کے لیے درخواست دہندگان کو ایف ایس سی پری میڈیکل میں کم از کم 60 فیصد نمبروں کے ساتھ کامیاب ہونا ضروری ہے۔ داخلے میرٹ کی بنیاد پر دیے جائیں گے اور امیدواروں کو ڈومیسائل اور دیگر اہلیت کی شرائط بھی پوری کرنا ہوں گی۔

    درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 اکتوبر 2026 مقرر کی گئی ہے، جبکہ داخلہ ٹیسٹ 18 نومبر 2026 کو منعقد ہوگا۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ نامکمل یا آخری تاریخ کے بعد موصول ہونے والی درخواستوں پر غور نہیں کیا جائے گا۔

    درخواست دہندگان کو تعلیمی اسناد، شناختی دستاویزات، تصاویر اور ڈومیسائل یا اسٹیٹ سبجیکٹ سمیت تمام مطلوبہ دستاویزات داخلہ فارم کے ساتھ جمع کرانا ہوں گی۔ 18 سال یا اس سے زائد عمر کے امیدواروں کو کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ جبکہ کم عمر امیدواروں کو بی فارم یا متعلقہ شناختی دستاویز فراہم کرنا ہوگی۔

    پوسٹ آر این اور ڈپلومہ پروگرام

    پوسٹ آر این بی ایس سی نرسنگ کے خواہشمند امیدواروں کے پاس متعلقہ قوانین کے تحت درکار نرسنگ قابلیت اور پیشہ ورانہ رجسٹریشن ہونا ضروری ہے۔ سرکاری ملازمین کو جہاں لازم ہو وہاں نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ بھی پیش کرنا ہوگا۔

    امیدوار مقررہ داخلہ فارم حاصل کر کے مکمل کرنے کے بعد اسے اسٹیٹ کالج آف نرسنگ میرپور میں معاون دستاویزات سمیت جمع کرائیں۔ مزید معلومات کے لیے کالج کے فون نمبرز 05827-921476 اور 921478 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    صحت کے شعبے میں تربیت یافتہ عملے کی تیاری حکومت کی ترجیحات میں شامل بتائی جاتی ہے۔ گزشتہ روز وزیر صحت ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر نے میرپور میں صحت کے اداروں کا جائزہ لیتے ہوئے بھی سرکاری صحتی اداروں میں طبی عملے کی حاضری اور ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔

  • وزیر کی ڈی ایچ کیو اسپتال میرپور میں مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کی ہدایت

    وزیر کی ڈی ایچ کیو اسپتال میرپور میں مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کی ہدایت

    میرپور: آزاد کشمیر کے وزیر برائے ایلیمنٹری و سیکنڈری ایجوکیشن انجینئر عمیر نعیم خان نے ڈویژنل ہیڈکوارٹر ٹیچنگ اسپتال میرپور کی انتظامیہ کو مریضوں کی دیکھ بھال، انتظامی کارکردگی اور معیاری طبی سہولتوں کی بروقت فراہمی کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی ہے۔

    جمعرات کے روز اسپتال کے دورے میں وزیر نے جاری اصلاحات، انتظامی امور، طبی سہولتوں اور علاج کے مجموعی معیار کا جائزہ لیا۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احمد راجہ نے انہیں اصلاحاتی اقدامات، طبی خدمات اور اسپتال کی مجموعی کارکردگی پر بریفنگ دی۔

    وزیر نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ جاری اصلاحاتی پروگرام کے ٹھوس نتائج سامنے آنے چاہئیں اور اسپتال کے سروس ڈیلیوری نظام کو مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ معیاری صحت کی سہولت عوام کی بنیادی ضرورت ہے اور عوامی خدمات کو بہتر بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

    عمیر نعیم خان نے کہا کہ مریضوں کو باوقار، شائستہ اور سہولت بخش ماحول میں معیاری علاج ملنا چاہیے۔ انہوں نے طبی دیکھ بھال، مریضوں سے برتاؤ، انتظامی نظم و ضبط اور عوامی سہولت میں مسلسل بہتری پر زور دیا۔

    اس موقع پر ڈاکٹر زاہد احمد خان، ڈاکٹر طارق مسعود، ڈاکٹر وسیم احمد خان، ڈاکٹر رضوان بستان، ڈی ایم ایس ڈاکٹر ماریہ ذوالفقار، ڈاکٹر اویس زاہد، ڈاکٹر عدنان مرغوب سمیت دیگر ڈاکٹرز اور اسپتال کے افسران موجود تھے۔ اسپتال انتظامیہ نے وزیر کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی۔

    ای این ٹی شعبے میں بہتری

    دریں اثنا، ڈی ایچ کیو ٹیچنگ اسپتال میرپور کے ای این ٹی شعبے میں کلاسیفائیڈ ای این ٹی ماہرین اور پانچ دیگر ڈاکٹروں سمیت معاون طبی عملے کی تعیناتی کی گئی ہے۔ اسپتال کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ ای این ٹی او پی ڈی میں ایک ہزار 561 مریضوں کا معائنہ اور علاج کیا گیا جبکہ 20 مریضوں کی مختلف سرجرییاں کی گئیں۔

    انتظامیہ کے مطابق منگل اور جمعرات کو معمول کی او پی ڈی نہیں ہوتی کیونکہ یہ دن آپریشن تھیٹر میں سرجری کے لیے مختص ہیں۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر ڈاکٹر اعجاز احمد راجہ یکم اکتوبر کو آپریشن تھیٹر میں موجود رہے اور سرجری کے عمل میں حصہ لیا۔ انتظامیہ نے بتایا کہ ڈاکٹر زاہدہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد ڈاکٹر اعجاز احمد تقریباً تین سال تک شعبے کے واحد ای این ٹی ماہر رہے، اور اب شعبے میں متعدد ماہر ڈاکٹرز تعینات ہیں۔

    یاد رہے کہ 29 ستمبر کو وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے ڈی ایچ کیو اسپتال بھمبر کا دورہ بھی کیا تھا، جہاں انہوں نے کیتھ لیب کو فوری طور پر فعال کرنے، سو روزہ منصوبے کے تحت اینجیوگرافی مشین کی خریداری کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے اور اسپتال میں 100 نئے بستروں (بشمول ایمرجنسی کے 50 بستر) کے اضافے کی ہدایت کی تھی۔

  • ڈڈیال میں نوجوان جاں بحق، میرپور ڈویژن میں غیر معینہ ہڑتال

    ڈڈیال میں نوجوان جاں بحق، میرپور ڈویژن میں غیر معینہ ہڑتال

    ڈڈیال: ڈڈیال میں ایک نوجوان کے جاں بحق ہونے کی اطلاع کے بعد میرپور ڈویژن میں غیر معینہ ہڑتال جاری ہے، جبکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) نے تینوں ڈویژنوں میں غیر معینہ مدت کے لیے مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔

    کمیٹی کے رکن سردار عمر نذیر کشمیری نے عوام سے اپیل کی ہے کہ احتجاج کو کامیاب بنایا جائے اور مطالبات پورے ہونے تک کاروبار بند رکھے جائیں اور سڑکوں سے دور رہا جائے۔

    جے اے اے سی کا الزام ہے کہ ڈڈیال میں رات اور اتوار کی صبح سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے چودھری عثمان نامی نوجوان جاں بحق اور دو دیگر زخمی ہوئے۔ کمیٹی کے مطابق مقامی افراد نے نوجوان کی لاش سیکیورٹی فورسز سے حاصل کی جبکہ زخمیوں کو بعد میں اسپتال سے حراست میں لے لیا گیا۔ تاہم فائرنگ کے واقعے کے حالات اور ہلاکتوں کی تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، اور رپورٹ لکھے جانے تک حکام نے ڈڈیال واقعے کا تفصیلی بیان جاری نہیں کیا تھا۔

    دوسری جانب کوٹلی ضلع میں پولیس نے تصدیق کی کہ چارہوئی کے قریب کالا ڈب کے مقام پر بدامنی کے دوران کانسٹیبل عبدالرؤف گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا۔ پولیس کے مطابق مظاہرین نے سڑک بلاک کر رکھی تھی اور جب پولیس پارٹی راستہ کھولنے پہنچی تو اس کے اہلکاروں پر براہ راست فائرنگ کی گئی، جس سے رؤف کے سینے میں گولی لگی۔

    مختلف علاقوں سے احتجاج، سڑکوں کی بندش اور جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ حکام کی جانب سے تاحال صورتحال پر کوئی جامع سرکاری موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

    واضح رہے کہ حکومت اور جے اے اے سی کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی ایک بار پھر تشدد میں بدل گئی ہے۔ کمیٹی کے مطالبات میں آزاد کشمیر میں ٹیکسوں میں ریلیف، آٹے اور بجلی پر سبسڈی اور دیگر عوامی مسائل شامل ہیں۔

    مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈڈیال واقعے کی شفاف تحقیقات ناگزیر ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور پرامن ذرائع سے مسائل کے حل پر زور دیا ہے۔

    دریں اثنا، میرپور ڈویژن کے مختلف شہروں میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور ٹریفک کی روانی میں خلل کی اطلاعات ہیں۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف مصدقہ اطلاعات پر توجہ دیں۔

  • میرپور میں کشمیر پریمیئر لیگ فٹبال کا میلہ آٹھ اکتوبر سے سجے گا، چھ ٹیمیں میدان میں اتریں گی

    میرپور میں کشمیر پریمیئر لیگ فٹبال کا میلہ آٹھ اکتوبر سے سجے گا، چھ ٹیمیں میدان میں اتریں گی

    میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (مسٹ) کشمیر پریمیئر لیگ فٹبال 2026 کا انعقاد کرنے جا رہی ہے۔ تین روزہ ٹورنامنٹ آٹھ سے دس اکتوبر تک میرپور کی مسلم ہینڈز آسٹرو ٹرف اکیڈمی میں کھیلا جائے گا جس میں چھ ٹیمیں ٹائٹل کی دوڑ میں شامل ہوں گی۔

    وائس چانسلر مسٹ پروفیسر ڈاکٹر انور خطاب نے پریس کانفرنس میں ٹورنامنٹ کا باضابطہ اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ لیگ مسٹ امبریلا کے تحت مسلم ہینڈز اور بے نظیر بھٹو میڈیکل کالج کے اشتراک سے منعقد ہو رہی ہے اور اس کا نعرہ “ون کشمیر، ون پیشن، ون گیم” رکھا گیا ہے۔

    چھ ٹیمیں، ایک ٹرافی

    لیگ میں شامل چھ ٹیموں میں میرپور واریئرز، مظفرآباد ٹائٹنز، پونچھ چیمپئنز، لداخ لیجنڈز، سرینگر اسٹرائیکرز اور جموں چیلنجرز شامل ہیں۔ وائس چانسلر کے مطابق ٹورنامنٹ کا مقصد باصلاحیت نوجوان فٹبالرز کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔

    پریس کانفرنس میں ڈویژنل ہیڈکوارٹر ٹیچنگ ہسپتال میرپور کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، صدر کشمیر پریس کلب میرپور، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ صحافیوں، کمیونٹی ارکان اور مسٹ کے انتظامی افسران و عملے نے شرکت کی۔

    کھیلوں سے صحت مند معاشرہ

    ڈاکٹر انور خطاب نے شرکا کو کے پی ایل فٹبال 2026 کے مقاصد اور اہمیت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کھیل صحت مند اور سماجی طور پر ہم آہنگ معاشرے کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیلوں کی سرگرمیاں نوجوانوں کو نظم و ضبط، ٹیم ورک، قیادت اور صحت مند مقابلے کا جذبہ سکھاتی ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ “ون کشمیر، ون پیشن، ون گیم” کا پیغام فٹبال کے ذریعے اتحاد، بھائی چارے اور اجتماعی جوش و جذبے کا اظہار ہے۔ ان کے بقول ایسے مقابلے باصلاحیت نوجوان فٹبالرز کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دیتے ہیں اور نئی نسل کو کھیلوں میں بھرپور حصہ لینے کی ترغیب دیتے ہیں۔

    وائس چانسلر نے کہا کہ تعلیمی ترقی اور تحقیق کے ساتھ ساتھ مسٹ طلبہ اور نوجوانوں کی ذہنی، جسمانی اور ذاتی صلاحیتوں کی نشوونما کے لیے پرعزم ہے۔ پریس کانفرنس کا اختتام دعا اور میڈیا، کمیونٹی نمائندگان، انتظامی افسران اور ٹورنامنٹ کے تمام معاون اداروں کے شکریے کے ساتھ ہوا۔

  • محکمہ سیاحت آزاد کشمیر کی میرپور کے سیاحتی مقامات کی بہتری کی ہدایت

    محکمہ سیاحت آزاد کشمیر کی میرپور کے سیاحتی مقامات کی بہتری کی ہدایت

    مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے محکمہ سیاحت و آثار قدیمہ نے میرپور کے سیاحتی مقامات پر سہولتوں اور انتظامات کو بہتر بنانے جبکہ ترقی کے لیے ماسٹر پلان تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    یہ ہدایات ڈائریکٹر جنرل راجہ شاہد حسین نے ضلع کے دو روزہ دورے کے دوران جاری کیں۔ انہوں نے رام کوٹ قلعہ، منگلا ویو پارک، جیری ڈیم، دھن گلی اور اپر جہلم کینال روڈ اور منگلا اپر ہیڈ کے کئی مقامات کا معائنہ کیا۔

    رام کوٹ قلعہ میں انہوں نے بحالی کے کام، ریزورٹ کی تعمیر، باڑ، رسائی سڑک کی مرمت، لینڈ اسکیپنگ اور سائن بورڈز کا جائزہ لیا۔ لیز معاہدے کے تحت قلعہ کا انتظام چلانے والی نجی کمپنی نے پیش رفت پر بریفنگ دی، جس پر ڈائریکٹر جنرل نے تاخیر کی وضاحت طلب کرتے ہوئے لیز کی شرائط پر عمل کی ہدایت کی۔

    انہوں نے کہا کہ یہ قلعہ خطے کے تاریخی و سیاحتی ورثے کا اہم حصہ ہے اور سیاحوں کے لیے معیاری سہولتیں فراہم کرتے ہوئے اس کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے ڈڈیال کے قریب منگلا ویو پارک کا بھی معائنہ کیا اور تفریحی سہولتوں و صفائی بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

    ڈائریکٹر جنرل نے کمشنر میرپور ڈویژن راجہ طاہر ممتاز سے بھی ملاقات کی، جس میں سیاحت کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمت عملی اور مقامی ثقافت و ورثے کو اجاگر کرنے والے میلوں کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا۔