Tag: مذاکرات

  • مذاکرات کی ناکامی: انسداد دہشت گردی پالیسی پر حکومت اور پی ٹی آئی میں اختلاف برقرار

    مذاکرات کی ناکامی: انسداد دہشت گردی پالیسی پر حکومت اور پی ٹی آئی میں اختلاف برقرار

    حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گیا، اور دونوں فریق انسداد دہشت گردی کی پالیسی پر اپنے اختلافات دور نہ کر سکے۔

    پاکستان ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے مذاکرات ناکام ہونے کے چند گھنٹے بعد خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت پر عسکریت پسندی کا مقابلہ کرنے میں ناکامی کا الزام لگایا۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے جواب میں کہا کہ دہشت گردی کے بارے میں ان کا بیانیہ دہشت گردوں کے حق میں ہے۔

    سلمان اکرم راجہ نے کہا تھا کہ مذاکرات کے دوران اپوزیشن نے اصرار کیا کہ خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی کے اقدامات پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اتفاق ہونا چاہیے اور صوبائی اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی جانی چاہیے، جبکہ شہریوں کے جانی نقصان اور نقل مکانی سے گریز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف ان کی پالیسی میں صفر برداشت ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں حملوں میں اضافہ

    رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد پر زور دے رہی ہے جبکہ پی ٹی آئی کی صوبائی انتظامیہ بڑے پیمانے پر فوجی آپریشنز کی مخالفت کرتی آئی ہے اور عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لیے سیاسی مشاورت کی حمایت کرتی ہے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے گزشتہ ہفتے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران 680 عسکریت پسند حملے ریکارڈ کیے گئے، جو 2025 کے اسی عرصے کے 508 حملوں سے تقریباً 34 فیصد زیادہ ہیں۔ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں پولیس کی شہادتوں کی تعداد 63 سے بڑھ کر 122 ہو گئی۔ 18 ستمبر کو کوہاٹ کی اولڈ پولیس لائنز پر حملے میں 23 افراد شہید ہوئے تھے جن میں 17 پولیس اہلکار اور 6 شہری شامل تھے۔

    نیشنل ایکشن پلان دسمبر 2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور کے سانحے کے بعد ملک گیر انسداد دہشت گردی فریم ورک کے طور پر اپنایا گیا تھا۔ وفاقی حکومت اس پر عمل درآمد پر زور دیتی آئی ہے جبکہ صوبائی انتظامیہ کا موقف ہے کہ اس پر وفاق اور صوبے کے درمیان اتفاق رائے ضروری ہے۔

  • پارلیمنٹ ہاؤس میں حکومت اپوزیشن مذاکرات کا دوسرا دور بھی بے نتیجہ

    پارلیمنٹ ہاؤس میں حکومت اپوزیشن مذاکرات کا دوسرا دور بھی بے نتیجہ

    حکومت اور اپوزیشن کے وفود کے درمیان ہفتے کی سہ پہر پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات کا دوسرا دور ہوا جس میں پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کے احتجاجی مارچ سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، تاہم کوئی سرکاری نتیجہ سامنے نہ آ سکا۔

    ڈان کی رپورٹ کے مطابق اجلاس کی صدارت قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے کی۔ اجلاس سہ پہر 5 بجے سے کچھ قبل شروع ہوا اور چار گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ اجلاس کے آغاز پر اسپیکر نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات اسی خوشگوار ماحول میں آگے بڑھیں گے جیسے جمعے کے روز پہلے دور میں تھے۔

    حکومتی وفد میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت برائے سرحدی امور امیر مقام، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری شامل تھے۔ پیپلز پارٹی کی نمائندگی سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی نے کی۔

    اپوزیشن کے مطالبات

    اپوزیشن وفد میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، چیف وہپ عامر ڈوگر، اسد قیصر، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور حلیم عادل شیخ شامل تھے۔

    ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے بانی چیئرمین عمران خان تک رسائی، سپریم کورٹ کے تشکیل کردہ میڈیکل بورڈ سے ان کے معائنے اور ان کے معتمد افراد سے ملاقات کی اجازت کا مطالبہ کیا۔ حکومت کا موقف تھا کہ پی ٹی آئی 4 اکتوبر کا لانگ مارچ غیر مشروط طور پر واپس لے، اور اسلام آباد کی جانب مارچ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    رات گئے ڈان نیوز ٹی وی کی فوٹیج میں وزیر داخلہ محسن نقوی کو ہاتھ میں دستاویز لیے پارلیمنٹ ہاؤس سے روانہ ہوتے دیکھا گیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ ممکنہ طور پر صدر سے مشاورت کے لیے گئے تھے۔ ایک گھنٹے سے زائد بعد وہ پارلیمنٹ ہاؤس واپس آئے تاہم صحافیوں کے سوالات کا جواب نہ دیا۔

    اجلاس کے اختتام پر دونوں فریقین کی جانب سے میڈیا سے بات چیت سے گریز کیا گیا اور سرکاری طور پر مذاکرات کے نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں اتوار کو مذاکرات کی ناکامی کی تصدیق ہو گئی اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے گئے۔