Tag: متاثرہ

  • آزاد کشمیر: زلزلے سے متاثرہ اضلاع کے 53 تعلیمی منصوبے دسمبر تک مکمل کیے جائیں گے

    آزاد کشمیر: زلزلے سے متاثرہ اضلاع کے 53 تعلیمی منصوبے دسمبر تک مکمل کیے جائیں گے

    آزاد جموں و کشمیر میں زلزلے سے متاثرہ اضلاع میں تعمیرِ نو کے نامکمل تعلیمی منصوبوں کی تکمیل میں بڑی پیش رفت کا امکان ہے۔ حکام کے مطابق دسمبر تک مزید 53 تعلیمی منصوبے مکمل کر لیے جائیں گے، جس سے ہزاروں طلبہ کو محفوظ اور جدید اسکولوں کی سہولت میسر آئے گی۔

    ریاستی زلزلہ تعمیرِ نو اور بحالی اتھارٹی (سرّا) کے سیکرٹری رفاقت حسین کے مطابق وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر حکومت کی درخواست پر جون میں ایک ارب روپے کی رقم جاری کی تھی، جس کا مقصد وہ 67 اسکیمیں مکمل کرنا تھا جو پہلے سے تقریباً 80 فیصد مکمل ہو چکی تھیں۔ ان میں سے 14 منصوبے مکمل کر کے متعلقہ محکموں کے حوالے کر دیے گئے ہیں، جبکہ باقی 53 منصوبوں پر کام جاری ہے اور توقع ہے کہ دسمبر تک مکمل ہو جائے گا۔

    ان منصوبوں کو آزاد کشمیر حکومت کے سو روزہ اصلاحی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے، جس کا ہدف زلزلے سے متاثرہ اضلاع میں تعمیرِ نو کی سست رفتاری کا شکار تعلیمی انفرااسٹرکچر کی جلد تکمیل ہے۔ سرّا کے سیکرٹری کے مطابق اتھارٹی نے مجموعی طور پر 7608 اسکیمیں شروع کی تھیں، جن میں سے 5878 مکمل کر کے متعلقہ محکموں کے سپرد کی جا چکی ہیں۔

    تعمیرِ نو کے لیے مزید 44 ارب روپے درکار

    حکام کے مطابق تعمیرِ نو کے پورے پروگرام کی تکمیل کے لیے تقریباً 44 ارب روپے کی مزید ضرورت ہے۔ اس میں جاری منصوبوں کے لیے 20.113 ارب روپے اور باقی رہ جانے والی اسکیموں کے لیے 24.013 ارب روپے شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ یہ اعلان 8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کی 21ویں برسی سے دو روز قبل سامنے آیا، جسے حکومت نے قومی آفات سے آگاہی کے دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تباہ کن زلزلے میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بنے تھے اور تعلیمی اداروں کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا، جن میں اسکولوں کی تباہی سب سے دردناک سانحہ قرار دیا جاتا ہے۔

    مظفرآباد میں منعقدہ مرکزی تقریب میں وزیراعظم آزاد کشمیر نے بھی زلزلے کے شہداء کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور آفات سے نمٹنے کے لیے تیاری اور محفوظ تعمیرات کی اہمیت پر زور دیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ نئے تعلیمی منصوبوں کو جدید حفاظتی معیارات کے مطابق تعمیر کیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ قدرتی آفات میں طلبہ اور اساتذہ کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

    تعلیم سے وابستہ حلقوں نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم ان کا مطالبہ ہے کہ باقی منصوبوں کی تکمیل کے لیے مطلوبہ فنڈز کا بروقت اجرا یقینی بنایا جائے اور تعمیراتی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔