Tag: لاکھ

  • اسٹیٹ بینک نے دو لاکھ ٹن چینی کی برآمد کی شرائط جاری کر دیں

    اسٹیٹ بینک نے دو لاکھ ٹن چینی کی برآمد کی شرائط جاری کر دیں

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے دو لاکھ میٹرک ٹن چینی کی برآمد کے لیے شرائط جاری کر دی ہیں۔ مرکزی بینک نے زرمبادلہ کے مجاز ڈیلرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اہل شوگر ملز کی برآمدی درخواستوں پر مقررہ شرائط کے تحت کارروائی کریں۔

    شرائط کے مطابق ادائیگی سائٹ لیٹر آف کریڈٹ یا ایڈوانس ادائیگی کے ذریعے ہوگی، جبکہ ترسیل صرف سمندری راستے سے کی جائے گی۔ ان شرائط کا مقصد زرمبادلہ کی بروقت وصولی یقینی بنانا اور برآمدی عمل میں شفافیت لانا ہے۔

    چینی کی برآمد کا فیصلہ ملکی اسٹاک کی صورتحال اور عالمی منڈی میں قیمتوں کے جائزے کے بعد کیا جاتا ہے۔ حکومت عام طور پر برآمد کی اجازت اسی صورت میں دیتی ہے جب ملکی ضروریات کے لیے وافر ذخیرہ موجود ہو تاکہ مقامی صارفین پر قیمتوں کا بوجھ نہ پڑے۔

    معاشی ماہرین کے مطابق چینی کی برآمد سے ملک کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے اور شوگر انڈسٹری کو اضافی پیداوار فروخت کرنے کا موقع ملتا ہے۔ تاہم وہ یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ برآمدی فیصلوں میں ملکی اسٹاک اور قیمتوں کے توازن کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہے۔

    شوگر انڈسٹری کے نمائندوں کے مطابق برآمد کی اجازت سے ملز کو اضافی اسٹاک فروخت کرنے میں مدد ملے گی، جس سے گنے کے کاشتکاروں کو بروقت ادائیگیاں یقینی بنانے میں آسانی ہوگی۔ کاشتکار تنظیمیں طویل عرصے سے ملز کی طرف سے ادائیگیوں میں تاخیر کی شکایت کرتی آئی ہیں۔

    تاہم صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے حلقے کہتے ہیں کہ حکومت کو برآمد کے دوران مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔ ماضی میں برآمدی فیصلوں کے بعد قیمتوں میں اضافے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، اس لیے اسٹاک کی شفاف نگرانی ناگزیر ہے تاکہ مقامی صارفین متاثر نہ ہوں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ سائٹ لیٹر آف کریڈٹ اور ایڈوانس ادائیگی کی شرط سے زرمبادلہ کی محفوظ وصولی یقینی ہوگی، جبکہ سمندری ترسیل کی شرط بڑے حجم کی منتقلی کو ممکن اور لاگت کو کم رکھے گی۔

    مجاز ڈیلرز اب اہل ملز کی درخواستوں کی جانچ پڑتال کے بعد ان شرائط کے مطابق برآمدی دستاویزات کی کارروائی کریں گے۔

  • کشمیر میں سیاحوں کی 241 شکایات، 53 لاکھ کے جرمانے اور ریفنڈ

    کشمیر میں سیاحوں کی 241 شکایات، 53 لاکھ کے جرمانے اور ریفنڈ

    سرینگر: جموں و کشمیر ٹورازم انفورسمنٹ نے ہفتے کے روز بتایا کہ رواں سال یکم جنوری سے یکم اکتوبر کے دوران سیاحوں کی 241 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 140 نمٹا دی گئیں جبکہ 101 تاحال زیر التواء ہیں۔

    محکمے کے اشتراک کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں خلاف ورزی کرنے والے سروس فراہم کنندگان پر 16 لاکھ 95 ہزار 700 روپے کے جرمانے عائد کیے گئے، جبکہ متاثرہ سیاحوں کو 36 لاکھ 43 ہزار 440 روپے کے ریفنڈ کی سہولت فراہم کی گئی۔

    اسی عرصے میں جموں و کشمیر میں 15 لاکھ 45 ہزار 347 ملکی سیاح آئے جبکہ 16 ہزار 20 غیر ملکی سیاحوں نے وادی کا دورہ کیا۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ ٹورازم انفورسمنٹ ایس ڈی چودھری نے کہا کہ شکایات کی تعداد مجموعی سیاحوں کے تناسب کا ایک فیصد بھی نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ محکمہ سروس فراہم کنندگان اور سیاحوں دونوں سے رابطے میں ہے تاکہ مہمان نوازی میں خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے اور سیاحوں کے مجموعی تجربے کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے حال ہی میں ایک آؤٹ ریچ پروگرام بھی منعقد کیا گیا، جس میں متعلقہ فریقین سے آراء لی گئیں اور مناسب طرز عمل سے متعلق آگاہی دی گئی۔

    “اس پروگرام کا مقصد تمام سروس فراہم کنندگان اور سیاحوں سے بات چیت کرنا ہے، کیونکہ کچھ لوگوں میں مہمان نوازی کی بنیادی سمجھ کی کمی ہے۔ ہم ان کی آراء لینا چاہتے ہیں تاکہ بہتری لا سکیں اور ان کے کرنے اور نہ کرنے کے کام شیئر کر سکیں،” چودھری نے کہا۔

    انہوں نے کہا کہ سیاحوں کی آمد حوصلہ افزا رہی ہے اور وقفے وقفے سے درپیش چیلنجوں کے باوجود اس میں مزید بہتری کی توقع ہے۔ “الحمدللہ، سیاحوں کی آمد بہت اچھی رہی ہے اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس میں بہتری آتی رہے گی،” انہوں نے کہا۔

    چودھری نے کہا کہ ہر شکایت کو قانونی کارروائی کے ذریعے کم سے کم وقت میں سیاحوں کی اطمینان کے ساتھ حل کیا جاتا ہے۔ “شکایات آتی رہتی ہیں، لیکن اگر ہم سیاحت کے تناسب اور شکایات کے تناسب کو دیکھیں تو یہ ایک فیصد بھی نہیں ہے،” انہوں نے کہا۔

    واضح رہے کہ جرمانہ سرکاری خزانے میں جمع ہونے والی سزا ہے جبکہ ریفنڈ سیاح کو واپس کی گئی رقم ہے، اس لیے دونوں کو ملا کر “وصولی” قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ تاہم مجموعی طور پر یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کشمیر میں سیاحوں کی بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ سروس کے معیار کو بہتر بنانا انتظامیہ کے لیے ایک اہم چیلنج بنا ہوا ہے۔