ریاض میں ہنگامی بیٹھک، انقرہ کی دوٹوک وضاحت اور اسلام آباد کی سوچی سمجھی خاموشی — ماہرین کیا کہتے ہیں؟
یمن کے محاذ پر سعودی عرب اور حوثی ملیشیا کے درمیان کشیدگی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے، اس نے خطے کے دو اہم دارالحکومتوں — اسلام آباد اور انقرہ — کے لیے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کے سائے میں کیا پاکستان اور ترکی اس لڑائی کا عملی حصہ بنیں گے، یا معاملہ دفاعی تعاون کی حد تک ہی رہے گا؟
پانچ اکتوبر کو ریاض میں پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس سٹریٹجک کمیٹی کا ہنگامی اجلاس اسی تناظر میں بلایا گیا۔ اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں اجتماعی دفاع کی ذمہ داریوں کو عملی شکل دینے، عسکری استعداد بڑھانے اور رکن ممالک کے قومی قوانین کے دائرے میں افواج کی تیز رفتار تعیناتی پر زور دیا گیا۔
لیکن اسی ہفتے ترکی نے اپنی پوزیشن واضح کر دی۔ ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور ترکی کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے اپنی فوج نہیں بھیجے گا۔
دوسری جانب اسلام آباد کا لہجہ محتاط مگر پُرعزم ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق مکہ معاہدہ اب “آپریشنل” ہو چکا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی کہ اس معاملے پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی بات چیت ہوئی ہے، اور تہران حوثیوں سمیت عراقی گروہوں سے لاتعلقی ظاہر کر رہا ہے۔
تاہم یہ اب تک واضح نہیں ہو سکا کہ سعودی دفاع کے لیے پاکستان عملی طور پر کیا اقدامات کر رہا ہے۔ حکام کا موقف ہے کہ معاہدے کی آپریشنل تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی جا سکتیں۔
امریکی ٹی وی سی این این کو انٹرویو میں پاک فوج کے ترجمان نے البتہ یہ تسلیم کیا کہ پاکستانی دستے کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مکہ اتحاد کوئی اچانک پیش رفت نہیں بلکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دیرینہ سفارتی و عسکری تعلقات کا تسلسل ہے۔
اسی دوران امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے ایک سینئر عسکری ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائیوں میں پاکستانی جنگی طیارے استعمال ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی وزارت اطلاعات نے اس خبر کو “جھوٹی اور من گھڑت” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کیا جائے۔
سوشل میڈیا پر بھی بحث گرم ہے۔ متعدد آوازیں حکومت کو خبردار کر رہی ہیں کہ حرمین شریفین کے تحفظ اور یمن کی جنگ میں کودنے میں فرق ہے۔
اس پس منظر میں دفاعی و سفارتی ماہرین کی رائے بھی سامنے آئی ہے۔ یونیورسٹی آف برمنگھم سے وابستہ مشرق وسطیٰ کے ماہر عمر کریم کے مطابق سعودی سلامتی کا معاملہ اب یمن تنازع سے جُڑ چکا ہے، اس لیے پاکستان کی براہ راست شمولیت نہ بھی ہو تو بالواسطہ کردار کسی نہ کسی شکل میں جاری رہنے کا امکان ہے۔ ان کے خیال میں حکومت میڈیا کوریج کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہے اور آئندہ بھی تردید کی پالیسی جاری رہ سکتی ہے، لیکن زمینی حقائق مختلف رخ اختیار کر سکتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ 2015 میں پاکستان کی پارلیمنٹ یمن تنازع میں شمولیت کی مخالفت کر چکی ہے۔ سابق سفیر ملیحہ لودھی کا موقف ہے کہ فیصلہ قومی مفاد میں ہونا چاہیے، کسی دوست ملک کے مفاد میں نہیں، اور 2015 کی طرح اس بار بھی پارلیمانی بحث اور منظوری ضروری ہے۔
البتہ عمر کریم سمجھتے ہیں کہ حالات 2015 سے مختلف ہیں۔ ان کے بقول سول ملٹری تعلقات کی موجودہ صورتحال میں یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اصل اختیار کہاں ہے، اور ماضی میں دونوں معاہدوں سے قبل پارلیمنٹ میں کوئی بحث نہیں ہوئی، اس لیے اس بار بھی پارلیمان کا کردار محدود رہنے کا امکان ہے۔
امریکی تھنک ٹینک سٹمسن سینٹر کی باربرا سلاون کے مطابق سعودی عرب خود کو مشکل صورتحال میں محسوس کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ انٹیلی جنس اور محدود تکنیکی مدد کے سوا سعودی عرب کو اپنے وسائل پر انحصار کرنا ہوگا، جس سے پاکستان اور ترکی کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
ملیحہ لودھی خبردار کرتی ہیں کہ پاکستان پہلے ہی بھارت اور افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی اور اندرونی عسکریت پسندی کا سامنا کر رہا ہے، ایسے میں ایک اور محاذ کھولنا دانشمندی نہیں ہوگی۔
سابق سفارتکار منصور خان کے مطابق بیرون ملک فوجی مداخلت کے نتائج دہائیوں تک بھگتنے پڑتے ہیں، جیسا کہ افغانستان اور عراق میں دیکھا گیا۔ ان کی رائے میں پاکستان سعودی عرب کی سٹریٹجک منصوبہ بندی، فضائی اور میزائل دفاع میں مدد دے سکتا ہے، لیکن کسی تیسرے ملک میں براہ راست مداخلت سے گریز ضروری ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے، داعش اور القاعدہ جیسے خطرات سے نمٹنے والا پاکستان حوثی محاذ کھول کر مزید پیچیدگیوں میں نہیں الجھ سکتا۔
دوسری طرف عمر کریم کی رائے ہے کہ یہ معاملہ محض لین دین نہیں بلکہ پاکستان اپنے خودمختار وعدوں کی پاسداری کر رہا ہے، اور جتنی شمولیت نمایاں ہوگی، اتنا ہی واضح ہوگا کہ اسلام آباد سعودی عرب سے اپنے دفاع کے حوالے سے کیا توقعات رکھتا ہے۔
ایران کا پہلو بھی اہم ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ کے مطابق ایرانی صدر اور وزیر خارجہ حوثیوں سے لاتعلقی کا اظہار کر چکے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یمن میں پاکستان کا کردار تہران کے ساتھ تعلقات اور ثالثی کی ساکھ کو متاثر کر سکتا ہے۔
