Tag: اسٹیٹ

  • میرپور: اسٹیٹ کالج آف نرسنگ میں بی ایس سی نرسنگ داخلوں کا اعلان

    میرپور: اسٹیٹ کالج آف نرسنگ میں بی ایس سی نرسنگ داخلوں کا اعلان

    میرپور: حکومت آزاد جموں و کشمیر نے تعلیمی سیشن 2026-27 کے لیے نرسنگ پروگراموں میں داخلوں کا اعلان کر دیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق بی ایس سی جنرک نرسنگ پروگرام کے لیے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔

    داخلہ نوٹس میں پوسٹ آر این بی ایس سی نرسنگ اور ایک سالہ پوسٹ بیسک ڈپلومہ پروگرام بھی شامل ہیں۔ داخلے اسٹیٹ کالج آف نرسنگ میرپور میں دیے جائیں گے، جو آزاد کشمیر میں نرسنگ کی تعلیم کا اہم ادارہ ہے۔

    اہلیت اور اہم تاریخیں

    بی ایس سی جنرک نرسنگ کے لیے درخواست دہندگان کو ایف ایس سی پری میڈیکل میں کم از کم 60 فیصد نمبروں کے ساتھ کامیاب ہونا ضروری ہے۔ داخلے میرٹ کی بنیاد پر دیے جائیں گے اور امیدواروں کو ڈومیسائل اور دیگر اہلیت کی شرائط بھی پوری کرنا ہوں گی۔

    درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 اکتوبر 2026 مقرر کی گئی ہے، جبکہ داخلہ ٹیسٹ 18 نومبر 2026 کو منعقد ہوگا۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ نامکمل یا آخری تاریخ کے بعد موصول ہونے والی درخواستوں پر غور نہیں کیا جائے گا۔

    درخواست دہندگان کو تعلیمی اسناد، شناختی دستاویزات، تصاویر اور ڈومیسائل یا اسٹیٹ سبجیکٹ سمیت تمام مطلوبہ دستاویزات داخلہ فارم کے ساتھ جمع کرانا ہوں گی۔ 18 سال یا اس سے زائد عمر کے امیدواروں کو کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ جبکہ کم عمر امیدواروں کو بی فارم یا متعلقہ شناختی دستاویز فراہم کرنا ہوگی۔

    پوسٹ آر این اور ڈپلومہ پروگرام

    پوسٹ آر این بی ایس سی نرسنگ کے خواہشمند امیدواروں کے پاس متعلقہ قوانین کے تحت درکار نرسنگ قابلیت اور پیشہ ورانہ رجسٹریشن ہونا ضروری ہے۔ سرکاری ملازمین کو جہاں لازم ہو وہاں نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ بھی پیش کرنا ہوگا۔

    امیدوار مقررہ داخلہ فارم حاصل کر کے مکمل کرنے کے بعد اسے اسٹیٹ کالج آف نرسنگ میرپور میں معاون دستاویزات سمیت جمع کرائیں۔ مزید معلومات کے لیے کالج کے فون نمبرز 05827-921476 اور 921478 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

    صحت کے شعبے میں تربیت یافتہ عملے کی تیاری حکومت کی ترجیحات میں شامل بتائی جاتی ہے۔ گزشتہ روز وزیر صحت ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر نے میرپور میں صحت کے اداروں کا جائزہ لیتے ہوئے بھی سرکاری صحتی اداروں میں طبی عملے کی حاضری اور ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔

  • اسٹیٹ بینک نے دو لاکھ ٹن چینی کی برآمد کی شرائط جاری کر دیں

    اسٹیٹ بینک نے دو لاکھ ٹن چینی کی برآمد کی شرائط جاری کر دیں

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے دو لاکھ میٹرک ٹن چینی کی برآمد کے لیے شرائط جاری کر دی ہیں۔ مرکزی بینک نے زرمبادلہ کے مجاز ڈیلرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اہل شوگر ملز کی برآمدی درخواستوں پر مقررہ شرائط کے تحت کارروائی کریں۔

    شرائط کے مطابق ادائیگی سائٹ لیٹر آف کریڈٹ یا ایڈوانس ادائیگی کے ذریعے ہوگی، جبکہ ترسیل صرف سمندری راستے سے کی جائے گی۔ ان شرائط کا مقصد زرمبادلہ کی بروقت وصولی یقینی بنانا اور برآمدی عمل میں شفافیت لانا ہے۔

    چینی کی برآمد کا فیصلہ ملکی اسٹاک کی صورتحال اور عالمی منڈی میں قیمتوں کے جائزے کے بعد کیا جاتا ہے۔ حکومت عام طور پر برآمد کی اجازت اسی صورت میں دیتی ہے جب ملکی ضروریات کے لیے وافر ذخیرہ موجود ہو تاکہ مقامی صارفین پر قیمتوں کا بوجھ نہ پڑے۔

    معاشی ماہرین کے مطابق چینی کی برآمد سے ملک کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے اور شوگر انڈسٹری کو اضافی پیداوار فروخت کرنے کا موقع ملتا ہے۔ تاہم وہ یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ برآمدی فیصلوں میں ملکی اسٹاک اور قیمتوں کے توازن کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہے۔

    شوگر انڈسٹری کے نمائندوں کے مطابق برآمد کی اجازت سے ملز کو اضافی اسٹاک فروخت کرنے میں مدد ملے گی، جس سے گنے کے کاشتکاروں کو بروقت ادائیگیاں یقینی بنانے میں آسانی ہوگی۔ کاشتکار تنظیمیں طویل عرصے سے ملز کی طرف سے ادائیگیوں میں تاخیر کی شکایت کرتی آئی ہیں۔

    تاہم صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے حلقے کہتے ہیں کہ حکومت کو برآمد کے دوران مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھنی چاہیے۔ ماضی میں برآمدی فیصلوں کے بعد قیمتوں میں اضافے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، اس لیے اسٹاک کی شفاف نگرانی ناگزیر ہے تاکہ مقامی صارفین متاثر نہ ہوں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ سائٹ لیٹر آف کریڈٹ اور ایڈوانس ادائیگی کی شرط سے زرمبادلہ کی محفوظ وصولی یقینی ہوگی، جبکہ سمندری ترسیل کی شرط بڑے حجم کی منتقلی کو ممکن اور لاگت کو کم رکھے گی۔

    مجاز ڈیلرز اب اہل ملز کی درخواستوں کی جانچ پڑتال کے بعد ان شرائط کے مطابق برآمدی دستاویزات کی کارروائی کریں گے۔