Tag: آئی

  • آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ: پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی راہ ہموار

    آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ: پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی راہ ہموار

    اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے جمعرات کو پاکستان کے حکام کے ساتھ سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے چوتھے جائزے اور 1.4 ارب ڈالر کی لچک اور پائیداری سہولت (آر ایس ایف) کے تیسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ طے کر لیا۔ ادارے کے مطابق یہ معاہدہ ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے، جس کے بعد پاکستان تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی رقم حاصل کرنے کا اہل ہو جائے گا۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ منظوری کے بعد پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر (76 کروڑ خصوصی اخذ حق) اور آر ایس ایف کے تحت تقریباً 21 کروڑ ڈالر (15.4 کروڑ خصوصی اخذ حق) ملیں گے، جس کے بعد دونوں پروگراموں کے تحت اب تک کی کل تقسیم شدہ رقم تقریباً 5.7 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ اعلامیے کے مطابق رقم کی اجرائی بورڈ کی منظوری کے بعد چار سے پانچ ہفتوں میں متوقع ہے۔

    فریقین نے 2026 کے آرٹیکل فور مشاورتی عمل کو بھی مکمل کر لیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق مشکل بیرونی ماحول کے باوجود ای ایف ایف کے تحت پروگرام پر عمل درآمد مجموعی طور پر تسلی بخش رہا۔ حکام نے معاشی استحکام کے تحفظ، عوامی مالیات کو مضبوط بنانے، مہنگائی کو اسٹیٹ بینک کے ہدف کے دائرے میں مستقل طور پر لانے، توانائی کے شعبے کی مالی حیثیت بہتر بنانے اور سماجی تحفظ کو مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ حکام پائیدار، نجی شعبے کی قیادت میں جامع ترقی کے فروغ کے لیے اصلاحات کو تیز کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ آر ایس ایف کے تحت پاکستان کے آب و ہوا سے متعلق اصلاحاتی ایجنڈے پر بھی پیش رفت جاری ہے، جس کا مقصد آب و ہوا کے خطرات کے خلاف ملک کی لچک بڑھانا اور کمزوریوں کو کم کرنا ہے۔

    آئی ایم ایف کی ٹیم، جس کی قیادت ایوا پیٹرووا نے کی، 23 ستمبر سے 7 اکتوبر تک پاکستان میں موجود رہی، جہاں اس نے 2026 آرٹیکل فور مشاورت کے ساتھ ساتھ ای ایف ایف کے چوتھے جائزے اور آر ایس ایف کے تیسرے جائزے پر بات چیت کی۔ یہ بات چیت واشنگٹن میں ادارے کے ہیڈکوارٹرز سے جاری اعلامیے میں بیان کی گئی۔

    معاشی ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کے لیے اہم سنگ میل ہے، کیونکہ اس سے بیرونی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پروگرام کی شرائط پر عمل درآمد جاری رکھا جائے گا تاکہ معیشت میں استحکام کا عمل برقرار رہے۔

    مبصرین کے مطابق معاہدے سے جاری مالی سال میں پاکستان کے لیے بیرونی مالیاتی وسائل کے بہاؤ کو تسلسل ملے گا، جو ادائیگیوں کے توازن اور زرمبادلہ کے ذخائر کی بہتری میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد ہی ہوگا۔

  • وزیراعظم کا پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ختم کرنے پر مذاکرات کی نئی پیشکش

    وزیراعظم کا پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ختم کرنے پر مذاکرات کی نئی پیشکش

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مذاکرات کی ایک اور پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی اسلام آباد کی طرف اپنا لانگ مارچ ختم کر دے تو حکومت سیاسی بات چیت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دھرنوں اور لانگ مارچوں کی سیاست سے سب سے پہلے ملکی معیشت متاثر ہوتی ہے۔

    وزیراعظم کشمیر چوک انڈرپاس کی سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکمراں اتحاد نے اجتماعی طور پر فیصلہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کو دھرنوں کی سیاست چھوڑنے پر آمادہ کرنے کے لیے مذاکرات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کے چیمبر میں دو روز تک مذاکرات ہوئے جن سے امید پیدا ہوئی تھی کہ تصادم کی سیاست ختم ہو جائے گی، تاہم بات چیت ناکام رہی۔

    وزیراعظم کے مطابق پی ٹی آئی کا لانگ مارچ چار اکتوبر کو اس وقت شروع ہوا جب مذاکرات ٹوٹ گئے۔ مارچ کی قیادت خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کر رہے ہیں اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق قافلہ کوہاٹ پہنچ چکا ہے۔ وزیراعظم نے کہا: "میں اب بھی کہوں گا کہ ہوش کے ناخن لیں، لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں، پھر ہم ضرور آپ کے ساتھ بیٹھیں گے۔"

    وزیراعظم نے معاشی اثرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست برآمدات، درآمدات اور مینوفیکچرنگ میں رکاوٹ بنتی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ حکومت نے اڑھائی برس کی محنت اور ٹیم ورک سے معیشت کو دوبارہ پٹڑی پر چڑھایا اور میکرو اکنامک استحکام حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ ستمبر میں ملک کی آئی ٹی برآمدات، ترسیلاتِ زر اور صنعتی پیداوار میں بہتری آئی، اور ان کامیابیوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    اسی تقریب میں وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ مذاکرات کی بحالی پی ٹی آئی کے احتجاج ختم کرنے سے مشروط ہے اور حکومت کے پاس سیاسی اور آئینی آپشنز موجود ہیں۔ انہوں نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر ڈالتے ہوئے کہا کہ بعض حکام کا خیال ہے کہ ریاست کو اب سختی دکھانی چاہیے۔

    تقریب میں زیرِ بحث منصوبے کی تفصیلات بھی سامنے آئیں۔ بریفنگ کے مطابق کشمیر چوک انڈرپاس کی پی سی ون لاگت ایک ارب ساٹھ کروڑ روپے تھی جبکہ ٹھیکہ ایک ارب چالیس کروڑ روپے میں دیا گیا ہے۔ منصوبے میں چار سلپ روڈز شامل ہوں گی اور متعلقہ چوراہے سے روزانہ تقریباً ایک لاکھ سات ہزار گاڑیاں گزرتی ہیں۔ وزیراعظم نے منصوبہ ایک ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا۔

    الگ سے ایک تقریب میں وزیراعظم نے آزاد جموں و کشمیر کونسل کے نومنتخب چار ارکان — چوہدری لطیف اکبر، مشتاق منہاس، چوہدری سعید اور چوہدری منظور — سے حلف لیا۔ انہوں نے کہا کہ کونسل آزاد کشمیر اور پاکستان کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتی ہے اور وفاقی حکومت آزاد کشمیر میں ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔

  • ٹرمپ نے جے کلیٹن کو اے آئی زار مقرر کر دیا، سپر انٹیلیجنس فورس قائم

    ٹرمپ نے جے کلیٹن کو اے آئی زار مقرر کر دیا، سپر انٹیلیجنس فورس قائم

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس جے کلیٹن کو انتظامیہ کا اے آئی زار مقرر کرتے ہوئے نئی “سپر انٹیلیجنس فورس” قائم کر دی ہے، جسے 120 دن میں مصنوعی ذہانت کے خطرات اور مواقع پر رپورٹ پیش کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے۔

    ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ یہ فورس وفاقی حکومت کی کوششوں کو مربوط کرے گی تاکہ “امریکہ سپر انٹیلیجنس میں دنیا کی قیادت جاری رکھے” اور “تمام امریکیوں کے مفادات کا تحفظ اور زندگیاں بہتر بنائی جائیں۔”

    یہ اعلان وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کی توثیق کرتا ہے جس میں کلیٹن — جنہیں اگست میں انٹیلیجنس چیف مقرر کیا گیا تھا — نے بتایا تھا کہ ٹرمپ نے انہیں اے آئی کے میدان میں امریکہ کو سب سے آگے رکھنے کی مہم کی قیادت سونپی ہے۔ کلیٹن نے اخبار کو بتایا: “پہلے نمبر پر نہ ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔”

    ٹاسک فورس کا دائرہ کار

    رپورٹس کے مطابق ٹاسک فورس کے وائس چیئرمینوں میں فیڈرل ٹریڈ کمیشن کے چیئرمین اینڈریو فرگوسن، انڈر سیکرٹری آف وار برائے ریسرچ اینڈ انجینئرنگ ایمل مائیکل اور آفس آف پرسنل مینجمنٹ کے ڈائریکٹر اسکاٹ کپور شامل ہوں گے۔

    ٹاسک فورس اے آئی کمپنیوں، صارفین، مذہبی گروپوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرے گی، اور وفاقی حکومت کے کردار کے بارے میں سفارشات پیش کرے گی۔ اس کے چارٹر کے مطابق یہ “ایس آئی سے پیدا ہونے والے خطرات کا جواب دینے کے منصوبے” تیار کرے گی، جبکہ ایسی حد سے زیادہ ریگولیشن کو روکے گی جو جدت اور مسابقت کو دبائے۔

    یہ دوسری بار ہے کہ ٹرمپ نے اے آئی سے متعلق فیصلوں کی نگرانی کے لیے کوئی مشیر مقرر کیا ہے — ان کی دوسری مدت کے آغاز میں وینچر کیپٹلسٹ ڈیوڈ سیکس یہ کردار ادا کر چکے ہیں۔

    ٹرمپ مصنوعی ذہانت کا نام بدل کر “سپر انٹیلیجنس” رکھنے کی مہم چلا رہے ہیں اور انہوں نے اس حوالے سے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کیے ہیں۔ وہ اے آئی پر ہلکی ریگولیشن کے حامی ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ سخت نگرانی چین کے مقابلے میں امریکی کمپنیوں کو کمزور کرے گی۔

  • ایس ای سی پی نے بگاسرا سیکیورٹیز کا معاملہ ایف آئی اے کو بھجوا دیا

    ایس ای سی پی نے بگاسرا سیکیورٹیز کا معاملہ ایف آئی اے کو بھجوا دیا

    سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے بگاسرا سیکیورٹیز کا معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھجوانے کی منظوری دے دی ہے۔

    یہ ریفرل کلائنٹس کے حصص میں مبینہ غیر مجاز لین دین پر قانونی کارروائی کے لیے کیا گیا ہے۔ ایس ای سی پی کے مطابق سرمایہ کاروں کے 48.93 ملین روپے کے واجبات تاحال واجب الادا ہیں۔

    بروکریج ہاؤسز میں کلائنٹس کے اثاثوں کا تحفظ سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بنیاد ہے۔ ریگولیٹر کا مؤقف ہے کہ کلائنٹس کے حصص میں ان کی اجازت کے بغیر لین دین سنگین خلاف ورزی ہے جس پر قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

    ایف آئی اے کو معاملہ بھجوانے کا مطلب ہے کہ اب اس کیس کی فوجداری پہلوؤں سے بھی تحقیقات ہوگی۔ اگر الزامات ثابت ہوئے تو ذمہ داران کو قانون کے تحت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس طرح کے اقدامات سے مارکیٹ میں احتساب کا پیغام جاتا ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ متاثرہ سرمایہ کاروں کو ان کی رقم کی جلد واپسی یقینی بنانا بھی اتنا ہی اہم ہے۔

    ایس ای سی پی کے مطابق بروکریج انڈسٹری میں شفافیت بڑھانے کے لیے حالیہ برسوں میں متعدد اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، جن میں کلائنٹس کے اثاثوں کی علیحدہ نگرانی اور باقاعدہ آڈٹ شامل ہیں۔ ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ ان ضوابط کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔

    قانونی ماہرین کے مطابق ایف آئی اے کی تحقیقات میں اگر غیر مجاز لین دین ثابت ہوا تو یہ کیس سرمایہ کاروں کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم نظیر بن سکتا ہے۔ متاثرہ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے دعوؤں اور لین دین کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں بروکریج فرموں کے لیے کلائنٹس کے فنڈز اور سیکیورٹیز کو اپنے اثاثوں سے الگ رکھنا لازم ہے۔ اس اصول کی خلاف ورزی کو سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے سنگین خطرہ سمجھا جاتا ہے، اور ریگولیٹر اسے اولین ترجیح پر لیتا ہے۔

    ایس ای سی پی نے واضح کیا ہے کہ سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے نگرانی کا عمل جاری رہے گا اور خلاف ورزیوں پر بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔

  • پاکستان اور آئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدے کی جانب بڑھنے لگے

    پاکستان اور آئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدے کی جانب بڑھنے لگے

    اسلام آباد: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے پاکستان کے ساتھ میمورنڈم آف فنانشل اینڈ اکنامک پالیسیز کا پہلا مسودہ شیئر کر دیا ہے، جس کے بعد جائزہ مذاکرات اسٹاف لیول معاہدے کی جانب بڑھ گئے ہیں۔

    آئی ایم ایف کا جائزہ مشن تقریباً آئندہ ہفتے کے وسط تک اسلام آباد میں رہے گا۔ اگر دونوں فریق مسودے پر متفق ہو جاتے ہیں تو معاہدہ ہو سکتا ہے، بصورت دیگر باقی معاملات پر ورچوئل بات چیت جاری رہ سکتی ہے۔

    بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ اہم مسئلہ رہا۔ جون 2026 کے اختتام تک اس کا حجم 1.675 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔ حکومت نے مالی سال 27 کے لیے بجلی کے شعبے میں 830 ارب روپے سبسڈی مختص کی ہے، جبکہ آئی ایم ایف نے 200 یونٹ تک بجلی پر کراس سبسڈی ختم کر کے جنوری 2027 سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ہدفی معاونت کی تجویز دی ہے۔

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا سالانہ ٹیکس ہدف 15.264 ٹریلین روپے برقرار ہے، کیونکہ پہلی سہ ماہی کا ہدف 27 ارب روپے سے زائد حاصل کیا گیا۔ آئی ایم ایف نے مالی سال 27 کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا تخمینہ 4 ارب ڈالر تک بڑھانے پر زور دیا ہے، جبکہ وزارت خزانہ کا تخمینہ تقریباً 2.7 ارب ڈالر ہے۔