Tag: آئی ایم ایف

  • اورنگزیب آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اجلاسوں کے لیے بینکاک روانہ

    اورنگزیب آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اجلاسوں کے لیے بینکاک روانہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب ورلڈ بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سالانہ اجلاسوں 2026 میں شرکت کے لیے بینکاک روانہ ہو گئے ہیں، جہاں وہ پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے ہفتے کو جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ سالانہ اجلاس 12 سے 18 اکتوبر تک منعقد ہوں گے۔ ان اجلاسوں کی میزبانی تھائی لینڈ کر رہا ہے اور ان میں 191 ممالک کے 15 ہزار سے زائد شرکاء، بشمول مرکزی بینکوں کے گورنرز، اقتصادی پالیسی سازوں اور کاروباری رہنماؤں کے شامل ہونے کی توقع ہے۔

    وزیر خزانہ کے پروگرام میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں، وزرائے خزانہ، پالیسی سازوں، ترقیاتی شراکت داروں، عالمی سرمایہ کاروں، بینکوں، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں، تھنک ٹینکس اور میڈیا نمائندوں کے ساتھ 60 سے زائد اعلیٰ سطحی ملاقاتیں شامل ہیں۔

    اعلامیے کے مطابق وزیر خزانہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک گروپ کی قیادت سے ملاقاتوں کے ساتھ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) اور ملٹی لیٹرل انویسٹمنٹ گارنٹی ایجنسی (مِگا) کے عہدیداروں سے بھی بات چیت کریں گے، جس میں پاکستان کی معاشی صورتحال، اصلاحات کی پیش رفت، نجی شعبے کی ترقی اور مستقبل کے تعاون پر توجہ مرکوز ہوگی۔

    وزیر خزانہ آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، جس میں مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (میناپ) خطے کے وزرائے خزانہ، مرکزی بینکوں کے گورنرز اور علاقائی مالیاتی اداروں کے سربراہان شامل ہوں گے۔

    دو طرفہ محاذ پر، سینیٹر اورنگزیب سعودی عرب، چین، ترکیہ، ایران، برطانیہ اور میزبان ملک تھائی لینڈ کے ہم منصبوں سے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے، جن کا مقصد اقتصادی، سرمایہ کاری، تجارتی اور ترقیاتی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ وہ امریکی محکمہ خزانہ کے عہدیداروں سے بھی ملاقات کریں گے۔

    سرمایہ کاری کی ترغیب پر خاص توجہ مرکوز ہوگی؛ وزیر خزانہ سرمایہ کاری سیمینارز، خودمختار سرمایہ کار فورمز اور معروف بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ گول میز مباحثوں میں شرکت کریں گے، جن میں جے پی مورگن، سٹی، ڈوئچے بینک، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ، ایم یو ایف جی، بارکلیز اور بینک آف امریکا سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔

    اسی طرح تینوں بڑی عالمی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں — فچ ریٹنگز، موڈیز اور ایس اینڈ پی گلوبل — سے بھی ملاقاتیں طے ہیں، جن میں پاکستان کی معاشی اور اصلاحاتی پیش رفت بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے سامنے رکھی جائے گی۔

    وزیر خزانہ کثیرالجہتی فورمز، بشمول جی-24 وزرائے خزانہ اور مرکزی بینک گورنرز اجلاس، سترہویں وی-20 وزارتی مکالمے اور آب و ہوا سے متعلق اقدامات کے لیے وزرائے خزانہ کے اتحاد کے سولہویں وزارتی اجلاس میں بھی شریک ہوں گے۔ وہ علی بابا انٹرنیشنل ڈیجیٹل کامرس کے ساتھ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت اور ای کامرس کے مواقع پر بھی بات چیت کریں گے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ دورہ پاکستان کی بین الاقوامی اقتصادی اور مالیاتی برادری کے ساتھ فعال مشغولیت اور بحال شدہ معاشی استحکام کو سرمایہ کاری، پیداواریت، برآمدات، روزگار اور پائیدار و جامع معاشی ترقی میں بدلنے کے حکومت کے عزم کا اظہار کرتا ہے۔

  • آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ: پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی راہ ہموار

    آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ: پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی راہ ہموار

    اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے جمعرات کو پاکستان کے حکام کے ساتھ سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے چوتھے جائزے اور 1.4 ارب ڈالر کی لچک اور پائیداری سہولت (آر ایس ایف) کے تیسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ طے کر لیا۔ ادارے کے مطابق یہ معاہدہ ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے، جس کے بعد پاکستان تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی رقم حاصل کرنے کا اہل ہو جائے گا۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ منظوری کے بعد پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر (76 کروڑ خصوصی اخذ حق) اور آر ایس ایف کے تحت تقریباً 21 کروڑ ڈالر (15.4 کروڑ خصوصی اخذ حق) ملیں گے، جس کے بعد دونوں پروگراموں کے تحت اب تک کی کل تقسیم شدہ رقم تقریباً 5.7 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ اعلامیے کے مطابق رقم کی اجرائی بورڈ کی منظوری کے بعد چار سے پانچ ہفتوں میں متوقع ہے۔

    فریقین نے 2026 کے آرٹیکل فور مشاورتی عمل کو بھی مکمل کر لیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق مشکل بیرونی ماحول کے باوجود ای ایف ایف کے تحت پروگرام پر عمل درآمد مجموعی طور پر تسلی بخش رہا۔ حکام نے معاشی استحکام کے تحفظ، عوامی مالیات کو مضبوط بنانے، مہنگائی کو اسٹیٹ بینک کے ہدف کے دائرے میں مستقل طور پر لانے، توانائی کے شعبے کی مالی حیثیت بہتر بنانے اور سماجی تحفظ کو مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ حکام پائیدار، نجی شعبے کی قیادت میں جامع ترقی کے فروغ کے لیے اصلاحات کو تیز کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ آر ایس ایف کے تحت پاکستان کے آب و ہوا سے متعلق اصلاحاتی ایجنڈے پر بھی پیش رفت جاری ہے، جس کا مقصد آب و ہوا کے خطرات کے خلاف ملک کی لچک بڑھانا اور کمزوریوں کو کم کرنا ہے۔

    آئی ایم ایف کی ٹیم، جس کی قیادت ایوا پیٹرووا نے کی، 23 ستمبر سے 7 اکتوبر تک پاکستان میں موجود رہی، جہاں اس نے 2026 آرٹیکل فور مشاورت کے ساتھ ساتھ ای ایف ایف کے چوتھے جائزے اور آر ایس ایف کے تیسرے جائزے پر بات چیت کی۔ یہ بات چیت واشنگٹن میں ادارے کے ہیڈکوارٹرز سے جاری اعلامیے میں بیان کی گئی۔

    معاشی ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کے لیے اہم سنگ میل ہے، کیونکہ اس سے بیرونی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پروگرام کی شرائط پر عمل درآمد جاری رکھا جائے گا تاکہ معیشت میں استحکام کا عمل برقرار رہے۔

    مبصرین کے مطابق معاہدے سے جاری مالی سال میں پاکستان کے لیے بیرونی مالیاتی وسائل کے بہاؤ کو تسلسل ملے گا، جو ادائیگیوں کے توازن اور زرمبادلہ کے ذخائر کی بہتری میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد ہی ہوگا۔

  • پاکستان اور آئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدے کی جانب بڑھنے لگے

    پاکستان اور آئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدے کی جانب بڑھنے لگے

    اسلام آباد: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے پاکستان کے ساتھ میمورنڈم آف فنانشل اینڈ اکنامک پالیسیز کا پہلا مسودہ شیئر کر دیا ہے، جس کے بعد جائزہ مذاکرات اسٹاف لیول معاہدے کی جانب بڑھ گئے ہیں۔

    آئی ایم ایف کا جائزہ مشن تقریباً آئندہ ہفتے کے وسط تک اسلام آباد میں رہے گا۔ اگر دونوں فریق مسودے پر متفق ہو جاتے ہیں تو معاہدہ ہو سکتا ہے، بصورت دیگر باقی معاملات پر ورچوئل بات چیت جاری رہ سکتی ہے۔

    بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ اہم مسئلہ رہا۔ جون 2026 کے اختتام تک اس کا حجم 1.675 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔ حکومت نے مالی سال 27 کے لیے بجلی کے شعبے میں 830 ارب روپے سبسڈی مختص کی ہے، جبکہ آئی ایم ایف نے 200 یونٹ تک بجلی پر کراس سبسڈی ختم کر کے جنوری 2027 سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ہدفی معاونت کی تجویز دی ہے۔

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا سالانہ ٹیکس ہدف 15.264 ٹریلین روپے برقرار ہے، کیونکہ پہلی سہ ماہی کا ہدف 27 ارب روپے سے زائد حاصل کیا گیا۔ آئی ایم ایف نے مالی سال 27 کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا تخمینہ 4 ارب ڈالر تک بڑھانے پر زور دیا ہے، جبکہ وزارت خزانہ کا تخمینہ تقریباً 2.7 ارب ڈالر ہے۔